پنجاب کے ضلع ساہیوال میں ایک نوجوان خاتون کو اس کے سوشل میڈیا پر بننے والے دوست اور اس کے ساتھی نے مبینہ طور پر نوکری کا جھانسہ دے کر اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون کا تعلق تاندلیانوالہ کے گاؤں بھیروانہ سے ہے، جس کی ساہیوال سے تعلق رکھنے والے ایک معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر سے آن لائن شناسائی ہوئی۔ یہ رابطہ رفتہ رفتہ دوستی میں تبدیل ہوا۔ ملزم نے مبینہ طور پر حکومتی جماعت سے اپنے سیاسی تعلقات کا دعویٰ کرتے ہوئے خاتون کو ملازمت دلوانے کی یقین دہانی کرائی۔
جمعرات کی شام ملزم نے خاتون کو ملاقات کے لیے ساہیوال بلایا۔ پولیس کے مطابق خاتون کے پہنچنے پر ملزم اسے کار میں بٹھا کر ایک مکان میں لے گیا، جہاں اسے مبینہ طور پر نشہ آور مشروب پلایا گیا۔ بعد ازاں ملزم اور اس کے ساتھی نے خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔
اگلی صبح خاتون کو جنرل بس اسٹینڈ پر چھوڑ دیا گیا اور واقعے کو ظاہر کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔
بعد ازاں متاثرہ خاتون نے پولیس سے رجوع کیا، جس پر تھانہ غلہ منڈی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مرکزی ملزم تاحال مفرور ہے، جس کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
