اسلام آباد کے مرکزی سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی انتظامیہ کے انوکھے قواعد و ضوابط ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئے ہیں، جہاں صفائی کی ناقص خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کو بھاری جرمانوں اور متعدد وارننگ نوٹسز کے باوجود مزید ایک سال کی توسیع دے دی گئی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق ‘پمز’ میں صفائی کی خدمات انجام دینے والی کمپنی “عمران اینڈ کو” کو مختلف اوقات میں مجموعی طور پر 15 وارننگ نوٹسز جاری کیے گئے، ان نوٹسز میں دورانِ ٹینڈر صفائی کا مطلوبہ سامان پورا نہ کرنے، صفائی کی مشینوں اور آلات کی قلت، اور افرادی قوت کی شدید کمی جیسے سنگین امور کی نشاندہی کی گئی، دستاویزات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ رواں برس کمپنی سے 60 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ وصول کیا گیا، پمز کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کمپنی کو جرمانے کے ساتھ ساتھ شوکاز نوٹس بھی جاری کئے گئے تھے۔
دستاویزات کے مطابق رواں سال “عمران اینڈ کو” کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے بنائی گئی خصوصی کمیٹی نے بھی کمپنی کی مجموعی کارکردگی پر عدم اطمینان کا باضابطہ اظہار کیا، کمیٹی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شام اور رات کی شفٹوں میں صفائی کے عملے کی شدید کمی پائی گئی، جس کے باعث مریضوں اور تیمارداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس کے باوجود حیران کن طور پر پمز کے شعبۂ پرچیز نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کی منظوری سے کمپنی کو آئندہ سال کے لیے بغیر ٹینڈر توسیع دینے کی منظوری دے دی.
مزید برآں نومبر میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد بھی کمپنی کو مزید 3 وارننگ نوٹسز جاری کئے گئے، جو انتظامیہ کے فیصلے پر مزید سوالات کو جنم دیتے ہیں، شفافیت اور احتساب کے دعووں کے برعکس پمز انتظامیہ کا یہ اقدام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ٹھیکوں کے نظام اور کارکردگی کی بنیاد پر فیصلوں پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے، مریضوں، طبی ماہرین اور سول سوسائٹی کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جائیں تاکہ عوامی صحت اور سرکاری وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
