معروف پاکستانی دوا ساز ادارے میکٹر انٹرنیشنل لمیٹڈ نے ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج کے لیے ایک نئی اور جدید انجکٹیبل دوا ٹِرزا ٹرم متعارف کرا دی۔ یہ دوا ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی منظوری کے بعد باقاعدہ طور پر پاکستانی مارکیٹ میں دستیاب ہوگئی ہے۔
کمپنی کے مطابق ٹِرزا ٹرم ایک جدید انجکٹیبل تھراپی ہے جو خاص طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس میلیٹس کے مریضوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس دوا کا بنیادی مقصد خون میں شوگر کی سطح کو مؤثر اور دیرپا انداز میں کنٹرول کرنا ہے، تاکہ مریض روزمرہ زندگی بہتر طریقے سے گزار سکیں اور ذیابیطس سے جڑی پیچیدگیوں سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔
طبی ماہرین کے مطابق اس نئی دوا کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف شوگر کنٹرول تک محدود نہیں بلکہ اس کے استعمال سے وزن میں کمی کے فوائد بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ ٹائپ 2 ذیابیطس کے اکثر مریض موٹاپے یا زائد وزن کا شکار ہوتے ہیں، جو شوگر کے کنٹرول کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ اس تناظر میں ٹِرزا ٹرم کو ایک مؤثر اور دوہرا فائدہ دینے والی دوا قرار دیا جا رہا ہے۔
میکٹر انٹرنیشنل لمیٹڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ دوا جدید سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی طبی معیار کے مطابق تیار کی گئی ہے۔ اس انجکٹیبل تھراپی کے استعمال سے مریضوں میں نہ صرف بلڈ شوگر لیول میں بہتری دیکھی گئی ہے بلکہ مجموعی میٹابولک صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ دوا پاکستان میں ذیابیطس کے علاج کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطس تیزی سے بڑھنے والا مرض بن چکا ہے، جہاں لاکھوں افراد ٹائپ 2 شوگر کا شکار ہیں۔ ایسے میں جدید اور مؤثر ادویات کی دستیابی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نئی دوا کی آمد سے نہ صرف مریضوں کو علاج کے مزید بہتر آپشنز میسر آئیں گے بلکہ ملکی سطح پر ذیابیطس کے بوجھ کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
