عمر کے ساتھ جسم میں تبدییلی رونما ہونا فطری عمل ہے لیکن اگر جسم میں کچھ علامات زیادہ نظر آرہی ہوں یا محسوس ہورہی ہوں تو سمجھ جائیں کہ آپ کسی بیماری کا شکار ہوچکے ہیں یا ہونے والے ہیں۔
کچھ بیماریاں پیدا ہونے سے قبل اپنی علامات ظاہر کرتی ہیں جبکہ کچھ خاموش قاتل کی طرح آہستہ اور چپکے سے اپنے اثرات ظاہر کرتی ہیں لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔
ایک ایسی ہی بیماری کا نام ذیابیطس ہے جس کو "خاموش” بیماری بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ جسم کے اندر آہستہ آہستہ بڑھتی ہے، اور اس کی علامات اتنی ہلکی ہوتی ہیں کہ بہت سے لوگ اس سے لاعلم رہتے ہیں۔
ذیابیطس کو عام طور پر ایسی بیماری سمجھا جاتا ہے جس کی علامات واضح اور روایتی ہوتی ہیں، جیسے زیادہ پیاس لگنا یا بار بار پیشاب آنا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس مرض کی کچھ غیر معمولی اور خاموش علامات بھی ہوتی ہیں جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں، حالانکہ یہی ابتدائی اشارے مستقبل میں سنگین پیچیدگیوں سے بچاؤ میں مدد دے سکتے ہیں۔
1: مسلسل خارش
ان غیر معمولی علامات میں سب سے پہلے مسلسل خارش شامل ہے، خصوصاً جسم کے حساس حصوں میں۔ بلند بلڈ شوگر جسم میں فنگل انفیکشن کے امکانات بڑھا دیتی ہے، جس کے باعث خارش، جلن اور بار بار انفیکشن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
2: جلد میں تبدیلیاں
اسی طرح جلد میں غیر واضح تبدیلیاں بھی ایک اہم اشارہ ہیں، جیسے گردن یا بغلوں میں سیاہ دھبے، جلد کا خشک یا کھردرا ہو جانا، یا زخموں کا دیر سے بھرنا۔ یہ سب خون میں شکر کی زیادتی کے باعث دورانِ خون متاثر ہونے کی علامت ہو سکتے ہیں۔
3: وزن میں کمی
وزن میں اچانک کمی یا اضافہ بھی تشویشناک ہوسکتا ہے، جب جسم گلوکوز کو مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا تو توانائی کے لیے چربی اور پٹھے ٹوٹنے لگتے ہیں، جس سے وزن کم ہو جاتا ہے۔
4: نظر کی کمزوری
اس کے برعکس انسولین مزاحمت وزن بڑھنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ نظر کا دھندلا جانا یا فوکس میں دشواری بھی ذیابیطس کی علامت ہوسکتی ہے، کیونکہ شوگر لیول میں تبدیلی آنکھوں کے لینز کو متاثر کرتی ہے۔
5: ہاتھ پیروں میں جھنجھناہٹ
ہاتھوں اور پیروں میں جھنجھناہٹ یا بے حسی بھی ایک اہم اشارہ ہے، جو اعصابی نقصان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر یہ علامات مسلسل ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
بروقت تشخیص اور مناسب علاج کے ذریعے نہ صرف ذیابیطس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کی پیچیدگیوں سے بھی بچا جاسکتا ہے۔
احتیاط و علاج :
جب اس مرض کا ابتدائی طور پر پتہ چل جائے تو بچاؤ کا انتظام کیا جا سکتا ہے یا اسے ختم کیا جاسکتا ہے. ذیابیطس کا فوری علاج دل کی بیماری، گردے کے نقصان، بینائی کی کمی، اور اعصابی نقصان جیسی پیچیدگیوں کو روکنے میں مدد کرسکتا ہے۔
صحت مند عادات کو اپنانے سے آپ کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لہٰذا متوازن غذا برقرار رکھیں جس میں شامل شکر اور بہتر کاربوہائیڈریٹ کم ہوں۔
باقاعدگی سے ورزش کریں زیادہ تر دنوں میں کم از کم 30 منٹ کی جسمانی سرگرمی کا مقصد بنائیں۔ وزن کو برقرار رکھیں، شراب نوشی ختم اور سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کریں اور باقاعدگی سے چیک اپ کروائیں۔
