MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
Health

بنگلا دیش: خسرہ کے مشتبہ پھیلاؤ سے 98 بچے ہلاک، ویکسینیشن مہم تیز

Last updated: اپریل 6, 2026 11:28 صبح
Neha Ashraf
Share
SHARE

بنگلا دیش میں مشتہ خسرہ جیسی بیماری کے پھیلاؤ نے تشویش ناک صورتِ حال اختیار کر لی ہے جہاں گزشتہ 3 ہفتوں کے دوران 98 بچوں کی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔

‎بنگلا دیش کی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 6 ماہ سے 5 سال تک کی عمر کے 6,476 بچوں میں خسرہ جیسی علامات سامنے آئی ہیں۔

‎وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دارالحکومت ڈھاکا سمیت سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی ویکسینیشن مہم شروع کر دی گئی ہے۔

‎حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچوں اور اموات کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

‎سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کئی مریضوں کا ٹیسٹ نہیں ہو پاتا یا بچے ٹیسٹنگ سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہیں، جس سے اصل تعداد زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔

‎عالمی ادارۂ صحت کے مطابق خسرہ دنیا کی انتہائی متعدی بیماریوں میں شامل ہے جو کھانسی یا چھینک کے ذریعے تیزی سے پھیلتی ہے اور بچوں میں دماغی سوجن اور شدید سانس کی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

‎ادارے کے اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 95,000 اموات خسرہ کے باعث ہوتی ہیں جن میں زیادہ تر غیر ویکسین شدہ بچے شامل ہوتے ہیں۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article جسم میں یہ 5 علامات پائیں تو سمجھ لیں آپ خطرے میں ہیں
Next Article منکی پاکس اور خسرہ پھیلنے لگا، 7 بچے موت کے منہ میں‌ چلے گئے
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
یورپی خلائی ایجنسی کا ’پروبا-3‘ مشن: مصنوعی گرہن کے ذریعے سورج کے رازوں کی تلاش
یورپی خلائی ایجنسی کا ’پروبا-3‘ مشن: مصنوعی گرہن کے ذریعے سورج کے رازوں کی تلاش
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 17, 2026
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال ختم، سپلائی لائن بحال
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال ختم، سپلائی لائن بحال
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اگست 17, 2026
چین کا ایشیا میں اثر و رسوخ، ٹرمپ کی ایران پر توجہ: امریکی خارجہ پالیسی میں تضاد
چین کا ایشیا میں اثر و رسوخ، ٹرمپ کی ایران پر توجہ: امریکی خارجہ پالیسی میں تضاد
تازہ ترین سیاست
اگست 17, 2026
کرسٹیانو رونالڈو کی ریٹائرمنٹ کا عندیہ: 2026 کا سیزن آخری ہو سکتا ہے
کرسٹیانو رونالڈو کی ریٹائرمنٹ کا عندیہ: 2026 کا سیزن آخری ہو سکتا ہے
تازہ ترین کھیل
اگست 17, 2026
یونان کے جزیرے خیوس میں دو آتشزدگیوں سے دو افراد ہلاک، سینکڑوں بے گھر
یونان کے جزیرے خیوس میں دو آتشزدگیوں سے دو افراد ہلاک، سینکڑوں بے گھر
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 17, 2026
اینڈرائیڈ 15 بیٹا 3: کوئیک سیٹنگز کے انٹرفیس میں بڑی تبدیلیاں
اینڈرائیڈ 15 بیٹا 3: کوئیک سیٹنگز کے انٹرفیس میں بڑی تبدیلیاں
Technology تازہ ترین
اگست 17, 2026

You Might Also Like

Health

پاکستان کی جدید طبی سائنس میں ایک اور تاریخی کامیابی

By Neha Ashraf
Health

محکمہ صحت کا اہم فیصلہ، چھٹیوں کے لیے نئے احکامات جاری

By Neha Ashraf
ابتدائی آزمائشوں میں امپلانٹ شدہ آئلٹ سیل ڈیوائس نے کئی ہفتوں تک گلوکوز کی سطح مستحکم رکھی
Health

ابتدائی آزمائشوں میں امپلانٹ شدہ آئلٹ سیل ڈیوائس نے کئی ہفتوں تک گلوکوز کی سطح مستحکم رکھی ذیابیطس کے علاج کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ابتدائی طبی آزمائشوں میں ایک امپلانٹ شدہ آئلٹ سیل (Islet Cell) ڈیوائس نے مریضوں میں کئی ہفتوں تک خون میں گلوکوز کی سطح کو مؤثر طور پر مستحکم رکھنے کے حوصلہ افزا نتائج دکھائے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ جدید ڈیوائس انسولین پیدا کرنے والے آئلٹ خلیات پر مشتمل ہے، جنہیں جسم میں نصب کیا جاتا ہے تاکہ وہ قدرتی لبلبے (Pancreas) کی طرح خون میں شوگر کی سطح کو منظم کرنے میں مدد دے سکیں۔ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ ڈیوائس نے گلوکوز کے اتار چڑھاؤ کو کم کرنے اور خون میں شوگر کے بہتر کنٹرول میں اہم کردار ادا کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے امید افزا ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس بیماری میں جسم کا مدافعتی نظام انسولین پیدا کرنے والے خلیات کو تباہ کر دیتا ہے۔ موجودہ علاج میں مریضوں کو روزانہ انسولین کے انجیکشن یا پمپ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ تحقیق کے دوران ڈیوائس کو محدود تعداد میں مریضوں میں آزمایا گیا، جہاں کئی شرکاء میں ہفتوں تک گلوکوز کی سطح نسبتاً مستحکم رہی اور انسولین کی ضرورت میں بھی کمی دیکھی گئی۔ اگرچہ نتائج ابتدائی مرحلے کے ہیں، تاہم سائنسدان انہیں ذیابیطس کے علاج میں ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔ محققین نے واضح کیا کہ ڈیوائس کی طویل مدتی کارکردگی، حفاظت اور بڑے پیمانے پر استعمال کی صلاحیت جانچنے کے لیے مزید کلینیکل ٹرائلز درکار ہوں گے۔ اس کے باوجود ابتدائی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجیز ذیابیطس کے مریضوں کو زیادہ خودمختار اور بہتر معیارِ زندگی فراہم کر سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر آئندہ آزمائشوں میں بھی مثبت نتائج سامنے آتے ہیں تو یہ طریقہ کار ذیابیطس کے روایتی علاج میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے اور مریضوں کے لیے مسلسل گلوکوز کنٹرول کا ایک نیا اور مؤثر حل فراہم کر سکتا ہے۔

By Misbah Jogyat
Health

معروف اینٹی بایوٹک دوا کا بیچ کمپنی کی جانب سے واپس منگوالیا گیا

By Neha Ashraf
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?