راولپنڈی: پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے جمعرات کو اڈیالہ جیل میں متوقع ملاقات نہ ہو سکی، حالانکہ یہ دن عدالت کی جانب سے مقرر کردہ ملاقاتوں کے شیڈول میں شامل تھا۔ اس پیش رفت نے ایک بار پھر عمران خان تک رسائی کے معاملے پر جاری تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے ملاقات کے لیے پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کی ایک فہرست پہلے ہی جمع کرا دی گئی تھی۔ اس فہرست میں بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ، بابر اعوان، حامد خان اور انتظار پنجوتھا کے نام شامل تھے۔ تاہم مقررہ وقت ختم ہونے تک ملاقات نہ ہو سکی۔
یہ واقعہ حالیہ ہفتوں میں پیش آنے والے ایسے کئی واقعات کی کڑی ہے جن میں پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کے واضح احکامات کے باوجود عمران خان سے ملاقات میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اہلِ خانہ، وکلا اور جماعتی نمائندوں کو باقاعدہ اجازت کے باوجود کبھی جیل کے باہر روکا جاتا ہے، کبھی چیک پوسٹس پر تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور کبھی آخری وقت میں ملاقات ممکن ہی نہیں رہتی۔
اس معاملے کی بنیاد اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان احکامات میں ہے جن کے تحت عمران خان کو ہفتے میں دو روز، عموماً منگل اور جمعرات، مخصوص افراد سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ عدالتی حکم اپنی جگہ موجود ہے، مگر اس پر عملدرآمد مسلسل اور یکساں انداز میں نہیں ہو رہا۔
اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ پی ٹی آئی رہنما یا عمران خان کی بہنیں اڈیالہ جیل پہنچیں، لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہ ملی۔ بعض مواقع پر ایسی ناکام کوششوں کے بعد جیل کے باہر احتجاج اور کشیدگی کی صورتحال بھی سامنے آئی۔ اسی وجہ سے یہ معاملہ اب صرف جیل ملاقات کا انتظامی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک بڑا سیاسی اور قانونی تنازع بن چکا ہے۔
عمران خان کے اہلِ خانہ نے بھی حالیہ دنوں میں اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کی بہنوں کا کہنا ہے کہ مقررہ ملاقات کے دنوں میں بھی انہیں بار بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق یہ طرزِ عمل اس وسیع تر پابندی کا حصہ ہے جو عمران خان کے گرد قائم رکھی گئی ہے، حالانکہ وہ اب بھی جماعت کی سیاست کا مرکزی چہرہ ہیں۔
یہ تنازع اس لیے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ عمران خان کی صحت اور جیل میں سہولیات کے حوالے سے بھی وقتاً فوقتاً سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ان کے وکلا اور پارٹی رہنما مختلف مواقع پر طبی معائنے، رسائی اور قید کے حالات پر تحفظات ظاہر کرتے رہے ہیں۔ اسی لیے ہر ناکام ملاقات محض ایک انتظامی معاملہ نہیں سمجھی جاتی بلکہ اسے بڑے سیاسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
جمعرات کی یہ غیرمکمل ملاقات بظاہر ایک معمول کی کارروائی لگ سکتی ہے، مگر موجودہ سیاسی حالات میں عمران خان سے ہر ملاقات یا اس میں رکاوٹ ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہے: کیا عدالت کے احکامات واقعی نافذ ہو رہے ہیں، یا نہیں؟
