ایک نئی جین ایڈیٹنگ حکمتِ عملی پر کام کر رہے ہیں جو مستقبل میں ڈاؤن سنڈروم کی بنیادی جینیاتی وجہ کو نشانہ بنا سکتی ہے، تاہم یہ تحقیق ابھی صرف لیبارٹری مرحلے تک محدود ہے۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق سائنس دان ایسی جدید CRISPR ٹیکنالوجی آزما رہے ہیں جو کروموسوم 21 کی اضافی نقل کو ختم یا غیر فعال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ڈاؤن سنڈروم ٹرائسومی 21 کی وجہ سے ہوتا ہے، یعنی متاثرہ فرد میں کروموسوم 21 کی دو کے بجائے تین نقول موجود ہوتی ہیں۔ نئی تحقیق کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں بیماری کی علامات کے بجائے اس کی جڑ یعنی اضافی کروموسوم کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ PNAS Nexus میں فروری 2025 میں شائع ہونے والی ایک اہم تحقیق میں بتایا گیا کہ سائنس دانوں نے allele-specific CRISPR-Cas9 طریقے سے انسانی trisomy 21 stem cells اور fibroblasts میں اضافی کروموسوم 21 کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ محققین نے اس عمل کو “trisomy rescue” قرار دیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ اضافی کروموسوم کو منتخب انداز میں لیبارٹری خلیات سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق جب اضافی کروموسوم کو ہٹایا گیا تو خلیات کے اندر کچھ مثبت تبدیلیاں بھی دیکھی گئیں۔ بعض ایڈٹ شدہ خلیات میں جین ایکسپریشن زیادہ معمول کے قریب آ گئی، خلیات کی بڑھوتری بہتر ہوئی، اور مجموعی حیاتیاتی کارکردگی میں بہتری کے آثار ملے۔ انہی نتائج نے اس خیال کو تقویت دی ہے کہ کروموسوم سطح کی جین ایڈیٹنگ مستقبل میں کروموسومل بیماریوں کے علاج کا نیا راستہ کھول سکتی ہے۔ تاہم ماہرین واضح طور پر کہتے ہیں کہ یہ ابھی انسانوں کے لیے دستیاب علاج نہیں ہے۔ یہ تمام تجربات صرف لیبارٹری کے خلیات پر کیے گئے ہیں، اور ابھی کئی بڑے سائنسی چیلنجز باقی ہیں۔ مثال کے طور پر، اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ایڈیٹنگ کے دوران صحت مند کروموسوم متاثر نہ ہوں، اور ساتھ ہی حفاظت، دیرپا اثرات اور جسم میں درست ترسیل جیسے مسائل بھی حل کرنا ہوں گے۔ یعنی یہ پیش رفت سائنسی لحاظ سے امید افزا ضرور ہے، مگر اسے فی الحال ابتدائی تجرباتی کامیابی ہی سمجھا جا رہا ہے، مکمل علاج نہیں۔ موجودہ شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جدید جین ایڈیٹنگ مستقبل میں ڈاؤن سنڈروم کی بنیادی وجہ کو نشانہ بنانے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن عملی انسانی علاج بننے سے پہلے اس پر مزید وسیع تحقیق اور جانچ ضروری ہے۔
