جاپان میں چیری بلاسم کے کھلنے کا ایک غیر معمولی ریکارڈ، جو بارہ سو برس سے بھی زیادہ پر محیط ہے، اب ایک نئے محقق کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ یہ تاریخی ڈیٹا سیٹ، جو کیوٹو میں چیری کے پھولوں کے عروجِ شکوفہ کے اوقات کو 812 عیسوی تک پیچھے لے جاتا ہے، دنیا کے طویل ترین مسلسل فینولوجیکل ریکارڈز میں شمار ہوتا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، اگست 2025 میں پروفیسر یاسویوکی آؤنو کے انتقال کے بعد ایک نئے جاپانی محقق نے اس کام کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔
آؤنو، جو اوساکا میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے وابستہ تھے، برسوں تک بڑی محنت سے اس ریکارڈ کو مرتب اور تازہ کرتے رہے۔ ان کی توجہ خاص طور پر اراشی یاما، کیوٹو میں پائے جانے والے پرونس جاماساکورا یعنی ماؤنٹین چیری پر تھی۔ ان کے انتقال کے بعد کچھ عرصے کے لیے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ شاید یہ قیمتی سلسلہ رک جائے، خاص طور پر اس وقت جب 2026 کا اندراج معمول کے مطابق فوری طور پر سامنے نہیں آیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ایک نئے محقق نے یہ ذمہ داری سنبھال لی ہے، اگرچہ اس کی شناخت ابھی عام نہیں کی گئی۔
اس ریکارڈ کی اہمیت صرف موسمِ بہار کی خوب صورتی تک محدود نہیں۔ آؤنو کی تحقیق نے یہ واضح کرنے میں مدد دی کہ کیوٹو میں حالیہ دہائیوں کے دوران چیری کے پھول پہلے کے مقابلے میں زیادہ جلدی کھلنے لگے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک یہ رجحان بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلی کا ایک اہم اشارہ ہے۔ اسی طویل المدتی ریکارڈ کی بنیاد پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ 2021 اور 2023 ان برسوں میں شامل تھے جب پھول غیر معمولی طور پر بہت جلد اپنے عروج پر پہنچے۔
یہی وجہ ہے کہ اس ڈیٹا بیس کا جاری رہنا اتنا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ایک موسم میں چیری کا کھلنا بظاہر ایک خوب صورت مگر عارضی منظر لگ سکتا ہے، لیکن جب یہی مشاہدہ صدیوں تک محفوظ ہو تو وہ ایک سائنسی شہادت بن جاتا ہے۔ یہ ریکارڈ پرانی ڈائریوں، تواریخ، درباری نوٹس، راہبوں کے مشاہدات اور مقامی دستاویزات سے ترتیب دیا گیا، پھر جدید دور میں اسے باقاعدہ سائنسی انداز میں آگے بڑھایا گیا۔
جاپان میں چیری بلاسم صرف پھول نہیں، ایک ثقافتی علامت ہیں۔ یہ بہار، یاد، حسن اور وقت کے گزرنے کے احساس سے جڑے ہوئے ہیں۔ مگر سائنس دانوں کے لیے ان کی ایک اور اہمیت بھی ہے: یہ فطرت میں ہونے والی تبدیلی کو ناپنے کا ایک نایاب اور طویل المدتی پیمانہ فراہم کرتے ہیں۔ اسی لیے اس ریکارڈ کا نئی نگرانی میں جانا صرف روایت کا تسلسل نہیں، بلکہ ایک زندہ سائنسی دستاویز کا تحفظ بھی ہے۔
یہ واقعہ ایک اور حقیقت بھی سامنے لاتا ہے: دنیا کے کئی اہم ترین سائنسی ریکارڈ کسی بڑے ادارے سے زیادہ، چند ثابت قدم افراد کی مسلسل محنت پر قائم ہوتے ہیں۔ آؤنو نے برسوں تک یہ ذمہ داری نبھائی۔ اب کوئی اور یہ کام آگے لے کر چلے گا۔ اور ہر نئی بہار کے ساتھ یہ ریکارڈ صرف پھولوں کے کھلنے کا وقت نہیں، بلکہ بدلتی ہوئی دنیا کی کہانی بھی محفوظ کرتا رہے گا۔
