جرمن انفلوئنسر لزلاز نے کہا ہے کہ ویرات کوہلی کے گرد سوشل میڈیا پر جو ہنگامہ کھڑا ہوا، اسے دیکھ کر انہیں “کچھ افسوس” محسوس ہوا۔ معاملہ ایک مبینہ انسٹاگرام لائک کا تھا، جو کہا جاتا ہے کہ کوہلی نے ان کی ایک تصویر پر کیا اور پھر ہٹا دیا، مگر یہ چھوٹی سی آن لائن سرگرمی دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے وائرل تماشے میں بدل گئی۔
لزلاز کے ردعمل میں دلچسپ بات یہ تھی کہ انہوں نے اس تنازعے کو ہوا دینے کے بجائے نسبتاً ہمدردانہ انداز اختیار کیا۔ ان کے مطابق پورا معاملہ ضرورت سے کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ دوسرے لفظوں میں، جو چیز شاید چند لمحوں کی معمولی آن لائن حرکت تھی، اسے انٹرنیٹ نے ایک الگ ہی کہانی بنا دیا۔
یہ حیران کن بھی نہیں۔ ویرات کوہلی دنیا کے اُن چند کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن کی ہر چھوٹی بڑی ڈیجیٹل سرگرمی فوراً لوگوں کی نظر میں آ جاتی ہے۔ ایسے میں اگر کسی پوسٹ پر لائک نظر آ جائے، پھر غائب ہو جائے، تو سوشل میڈیا صارفین، میم پیجز اور تبصرہ نگار فوراً اس پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ یہی یہاں بھی ہوا۔
اس پورے واقعے میں اصل بات شاید یہ نہیں تھی کہ لائک ہوا یا نہیں، بلکہ یہ تھی کہ ایک عالمی شہرت یافتہ کرکٹر کی معمولی سی آن لائن حرکت بھی کس تیزی سے عوامی بحث میں بدل سکتی ہے۔ کرکٹ سے اس کا براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا، نہ یہ میدان کا تنازع تھا، نہ ٹیم کا، نہ کارکردگی کا۔ پھر بھی یہ خبر بن گئی، کیونکہ کوہلی صرف ایک کھلاڑی نہیں، ایک بہت بڑی عوامی شخصیت بھی ہیں۔
سوشل میڈیا کا مزاج ویسے بھی ایسا ہی ہے۔ وہاں اب سنجیدہ اور غیر سنجیدہ کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ گیا ہے۔ ایک لمحاتی بات، ایک اسکرین شاٹ، ایک اشارہ — اور پھر میمز، قیاس آرائیاں اور بے شمار تبصرے۔ لزلاز کی بات اس لیے نمایاں لگی کہ انہوں نے اس شور میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے معاملے کو سنسنی خیز بنانے کے بجائے نرم لہجے میں دیکھا۔
کوہلی کے لیے یہ شاید ایک عارضی اور قدرے عجیب آن لائن شور سے زیادہ کچھ نہ ہو، لیکن یہ واقعہ ایک بار پھر یہی یاد دلاتا ہے کہ عالمی شہرت رکھنے والے کھلاڑیوں کی نجی ڈیجیٹل حرکات بھی اب واقعی نجی نہیں رہتیں۔ ایک چھوٹا سا مبہم لمحہ بھی چند منٹ میں تماشہ بن سکتا ہے۔
