عالمی منڈی میں اتوار کو تیل کی قیمتیں اس وقت اوپر چڑھ گئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فورسز نے ایک ایرانی کارگو جہاز قبضے میں لے لیا ہے۔ اس بیان کے فوراً بعد سرمایہ کاروں میں آبنائے ہرمز کے بارے میں تشویش بڑھ گئی، کیونکہ یہ دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں کسی بھی فوجی کشیدگی کا اثر براہِ راست توانائی کی منڈی پر پڑتا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 6.4 فیصد بڑھ کر 87.90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ برینٹ خام تیل 5.8 فیصد اضافے کے ساتھ 95.64 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ منڈی کے لیے اصل دھچکا صرف ایک بیان نہیں تھا، بلکہ یہ خدشہ تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری ٹکراؤ اب ایسی سطح پر پہنچ رہا ہے جہاں تیل کی سپلائی میں حقیقی رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ نے “توسکا” نامی ایرانی کارگو جہاز کو اس وقت روکا جب وہ امریکی ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی جنگی جہاز USS Spruance نے متعدد وارننگز کے بعد جہاز کو ناکارہ بنایا، جس کے بعد امریکی میرینز سوار ہوئے اور اس کا کنٹرول سنبھال لیا۔ یہی واقعہ کشیدگی میں نئے موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایران نے اس کارروائی کو فوری طور پر “قزاقی” قرار دیا اور جوابی ردِعمل کا عندیہ دیا۔ ادھر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پہلے ہی دباؤ میں تھی، کیونکہ اس سے پہلے بھی ایران کی جانب سے گزرگاہ دوبارہ کھولنے کے اشاروں کے بعد صورتحال یکدم پلٹ گئی تھی۔ اسی غیر یقینی کیفیت نے تیل بردار جہازوں، انشورنس کمپنیوں اور درآمد کنندہ ممالک سب کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اس بحران کا اثر صرف عالمی تجارتی حلقوں تک محدود نہیں رہا۔ اے پی کے مطابق امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت بڑھ کر 4.05 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو جنگ سے پہلے کی سطح 2.98 ڈالر فی گیلن سے خاصی زیادہ ہے۔ ایشیا اور یورپ جیسے وہ خطے جو درآمدی تیل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، اس کشیدگی سے نسبتاً زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں مزید طویل ہو جائیں۔
پس منظر یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری یہ بحران اب آٹھویں ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، اور ایک نازک جنگ بندی بھی دباؤ میں ہے۔ رپورٹوں کے مطابق بدھ کو جنگ بندی کی مدت ختم ہونا ہے، جبکہ پاکستان میں ممکنہ مذاکرات کے امکانات بھی اس تازہ واقعے کے بعد دھندلا گئے ہیں۔ اس لیے منڈی اس وقت صرف موجودہ واقعے پر ردِعمل نہیں دے رہی، بلکہ اس امکان کو بھی قیمتوں میں شامل کر رہی ہے کہ ہرمز میں کشیدگی مزید گہری ہو سکتی ہے۔
مختصر طور پر، تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایک عام تجارتی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ ایک واضح جغرافیائی سیاسی اشارہ ہے: جب آبنائے ہرمز جیسے اہم راستے پر فوجی تناؤ بڑھتا ہے تو منڈی فوراً خطرے کی قیمت وصول کرنا شروع کر دیتی ہے۔
