لکھنؤ سپر جائنٹس کو اتوار کی رات بڑی شکست کا سامنا ضرور کرنا پڑا، مگر پرنس یادو کے لیے یہ میچ ایک اہم ذاتی کامیابی بھی لے کر آیا۔ پنجاب کنگز کے خلاف انہوں نے 4 اوورز میں 25 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں، اور اسی کارکردگی کے بعد وہ آئی پی ایل 2026 کی پرپل کیپ فہرست میں ٹاپ تھری میں پہنچ گئے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ان کے اب 11 وکٹیں ہیں، اور وہ پرسدھ کرشنا کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر ہیں، جبکہ انشُل کمبوج 13 وکٹوں کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے میچ میں سامنے آئی جہاں گیند بازوں کے لیے حالات خاصے سخت تھے۔ پنجاب کنگز نے پہلے کھیلتے ہوئے 254 رنز بنائے، جو سیزن کے بڑے مجموعوں میں شامل ہے۔ اس اننگز میں پریانش آریہ نے 93 اور کوپر کونولی نے 87 رنز کی شاندار اننگز کھیلیں، اور دونوں کے درمیان بڑی شراکت نے میچ کا رخ ابتدا ہی میں طے کر دیا۔ جواب میں لکھنؤ کی ٹیم ہدف کے قریب بھی نہ پہنچ سکی اور پنجاب نے 54 رنز سے کامیابی حاصل کر لی۔
ایسے ہائی اسکورنگ مقابلے میں پرنس یادو کا اسپیل اس لیے بھی نمایاں رہا کہ زیادہ تر گیند باز شدید دباؤ میں دکھائی دیے۔ انہوں نے نہ صرف وکٹیں حاصل کیں بلکہ رنز روکنے کی بھی کوشش کی، جو ٹی 20 فارمیٹ میں کسی بھی ابھرتے ہوئے فاسٹ بولر کے لیے بڑی بات سمجھی جاتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ جب ایک میچ پوری طرح بیٹنگ کے قبضے میں ہو اور پھر بھی کوئی بولر اثر چھوڑ جائے، تو وہ کارکردگی سیدھی اعداد و شمار سے کچھ زیادہ معنی رکھتی ہے۔
اتوار کو اس سے پہلے کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے راجستھان رائلز کو 4 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ اس میچ میں ورون چکرورتی نے 3 کھلاڑی آؤٹ کیے جبکہ رنکو سنگھ نے ناقابلِ شکست 53 رنز بنا کر ٹیم کو ہدف تک پہنچایا۔ دن بھر کے نتائج نے مجموعی طور پر ٹورنامنٹ کے منظرنامے پر اثر ڈالا، لیکن بولنگ چارٹس میں سب سے نمایاں پیش رفت پرنس یادو کی رہی، جو اب مستقل مزاجی کے ساتھ نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔
لکھنؤ کے لیے ٹیمی نتیجہ یقیناً مایوس کن رہا، لیکن پرنس یادو کی صورت میں انہیں ایک ایسا بولر ضرور ملا ہے جو سیزن آگے بڑھنے کے ساتھ اور زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔ پرپل کیپ کی دوڑ میں جگہ بنانا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ یہ فہرست ایک اچھے اسپیل یا ایک خراب دن کے بعد فوراً بدل سکتی ہے۔ پھر بھی اس مرحلے پر ٹاپ تھری میں موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ پرنس یادو اب صرف وعدہ کرنے والے نوجوان نہیں رہے، بلکہ وہ اس سیزن کی نمایاں بولنگ کہانیوں میں شامل ہو چکے ہیں۔
