جب 1944ء میں سرخ فوج دوبارہ ایسٹونیا کی طرف بڑھی تو ماہرِ فلکیات ارنسٹ جولیس اوپک نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت بہت سے ایسٹونین باشندوں کو خدشہ تھا کہ سوویت واپسی کے بعد گرفتاریاں، جبر اور جلاوطنی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اوپک بھی انہی حالات میں اپنے خاندان کے ساتھ مغرب کی طرف نکل گئے۔
اوپک کوئی عام پناہ گزین نہیں تھے۔ وہ پہلے ہی ایک ممتاز ماہرِ فلکیات کے طور پر پہچانے جاتے تھے، اور بعد کے برسوں میں انہیں شمسی نظام، شہابیات اور دمدار ستاروں سے متعلق اپنے اہم کام کے باعث غیر معمولی مقام ملا۔ یہی وجہ تھی کہ جنگ کے بعد یورپ میں وہ بے گھر ضرور تھے، مگر علمی دنیا میں ان کا وزن برقرار رہا۔
جرمنی پہنچنے کے بعد اوپک نے علمی کام نہیں چھوڑا۔ وہ بالٹک یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے، جو جنگ کے بعد بے گھر ہونے والے بالٹک طلبہ اور اساتذہ کے لیے قائم کی گئی تھی۔ آرماغ آبزرویٹری کے مطابق وہ وہاں ایک اہم علمی منصب پر فائز رہے، اور اسی دور نے انہیں یورپ میں بطور جلاوطن اسکالر زندہ رکھا۔
آرماغ سے ان کا رابطہ پھر ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ آرماغ آبزرویٹری کے ڈائریکٹر ایرک مروِن لنڈسے نے اوپک کی قابلیت کو پہچانا اور ان کے لیے 1948ء میں آرماغ میں ایک عہدہ دلوایا۔ آبزرویٹری کی سرکاری تاریخ صاف کہتی ہے کہ اوپک مشرقی یورپ سے بطور پناہ گزین آرماغ آئے اور وہیں اپنی علمی زندگی کا دوسرا بڑا باب شروع کیا۔
یوں اصل کہانی یہ ہے: اوپک سرخ فوج کی پیش قدمی سے بچنے کے لیے ایسٹونیا سے نکلے، جنگ کے بعد جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی گزاری، اور پھر علمی شہرت اور پیشہ ورانہ روابط کے باعث آرماغ آبزرویٹری پہنچ گئے۔ بظاہر یہ ایک دور دراز شمالی آئرش شہر تک غیر متوقع سفر لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ جنگ، ہجرت اور سائنسی وقار—تینوں کا ملاپ تھا۔
