بنگلہ دیش نے نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے فیصلہ کن میچ سے قبل اپنی پیس حکمتِ عملی میں ایک اہم موڑ لاتے ہوئے مستفیض الرحمٰن کو دوبارہ زیرِ غور کر لیا ہے۔ بائیں ہاتھ کے تجربہ کار فاسٹ بولر ابتدائی میچوں میں گھٹنے کی تکلیف کے باعث باہر تھے، مگر اب تیسرے ون ڈے سے پہلے وہ دوبارہ اسکواڈ کی بحث کا حصہ بن گئے ہیں۔ تین میچوں کی سیریز اس وقت 1-1 سے برابر ہے، اور چٹگاؤں میں ہونے والے آخری مقابلے سے پہلے ان کی ممکنہ واپسی میزبان ٹیم کے لیے بڑا سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔
مستفیض کی واپسی کی بات پچھلے چند دنوں سے بنگلہ دیشی کیمپ میں گردش کر رہی تھی۔ دوسرے ون ڈے سے پہلے شرف الاسلام نے بتایا تھا کہ مستفیض کو پہلے میچ سے قبل وارم اپ کے دوران دائیں گھٹنے میں تکلیف محسوس ہوئی تھی، جس کے بعد ٹیم مینجمنٹ نے انہیں میدان میں نہ اتارنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت سوال صرف ان کی فٹنس کا نہیں تھا بلکہ یہ بھی تھا کہ اگر وہ فٹ ہو جاتے ہیں تو پہلے سے مضبوط پیس اٹیک میں کس کو جگہ چھوڑنی پڑے گی، کیونکہ ٹیم کے پاس پہلے ہی تسکین احمد، نہید رانا اور شرف الاسلام جیسے آپشن موجود ہیں۔
اب یہ مسئلہ بنگلہ دیش کے لیے پریشانی سے زیادہ خوش آئند سر درد بنتا جا رہا ہے۔ دوسرے ون ڈے میں میزبان ٹیم نے شاندار واپسی کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو 198 رنز پر آؤٹ کیا اور پھر چھ وکٹوں سے ہدف حاصل کر لیا۔ نہید رانا اس کامیابی کے مرکزی کردار رہے، جنہوں نے پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ تنزید حسن تمیم اور نجم الحسن شانٹو نے بیٹنگ میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نصف سنچریاں اسکور کیں۔ اس جیت نے سیریز کا رنگ ہی بدل دیا۔
اس فیصلہ کن مقابلے کی اہمیت صرف ایک عام دو طرفہ سیریز تک محدود نہیں رہی۔ بنگلہ دیش نے اسی 15 رکنی ون ڈے گروپ کو برقرار رکھا تھا جس نے حال ہی میں پاکستان کو ہوم سیریز میں 2-1 سے شکست دی تھی۔ اسی اسکواڈ میں مستفیض، تسکین، نہید اور شرف الاسلام پر مشتمل مضبوط فاسٹ بولنگ یونٹ شامل تھا، جبکہ ٹیم کی قیادت مہدی حسن مرزا کر رہے ہیں۔ اس لیے موجودہ صورتحال کسی بڑے رد و بدل کی نہیں، بلکہ اس بات کی ہے کہ آیا بنگلہ دیش فیصلہ کن دن پر اپنے سب سے تجربہ کار بائیں ہاتھ کے پیسر پر دوبارہ بھروسا کرتا ہے یا نہیں۔
تیسرا اور آخری ون ڈے 23 اپریل کو چٹگاؤں کے بیرشریسٹھو فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمٰن اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ پہلے دونوں میچ میرپور میں ہوئے تھے، مگر اب سیریز کا دباؤ اور توجہ چٹگاؤں منتقل ہو چکی ہے۔ بنگلہ دیشی ٹیم کو یقیناً اس بات سے حوصلہ ملا ہوگا کہ نہید رانا کی رفتار نے نیوزی لینڈ کو دوسرے میچ میں خاصا پریشان کیا۔ تاہم مستفیض کی ممکنہ شمولیت انہیں ایک مختلف قسم کا ہتھیار دے گی: رفتار سے زیادہ چالاکی، کٹرز، زاویے، اور مشکل لمحات میں کنٹرول۔
نیوزی لینڈ کے لیے بھی یہ آسان صورتحال نہیں۔ وہ پہلے ہی بنگلہ دیش کی نئی رفتار، یعنی نہید رانا، کا سامنا کر چکے ہیں۔ اگر مستفیض بھی واپس آ جاتے ہیں تو انہیں ایک بالکل مختلف انداز کے بولر کے خلاف حکمتِ عملی بنانا ہوگی۔ اور بنگلہ دیش کے لیے، سچ کہیے تو، یہی اصل کشش ہے۔ ایسے میچ میں جہاں سیریز داؤ پر لگی ہو، تجربہ کار بولرز کو بچا کر نہیں رکھا جاتا۔ یہی وہ دن ہوتا ہے جب انہیں میدان میں اتارا جاتا ہے۔
