پہلگام حملے کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی بھارت پاکستان کے خلاف اپنے الزامات کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق عوامی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ یہ بات پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بدھ، 22 اپریل 2026 کو حملے کی پہلی برسی کے موقع پر کہی، جب دونوں ممالک ایک بار پھر اس واقعے کے بارے میں بالکل مختلف مؤقف دہراتے نظر آئے۔
22 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام کے قریب بَیسرَن کے علاقے میں مسلح افراد نے سیاحوں پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں 26 شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے نے بھارت بھر میں شدید ردعمل پیدا کیا، سکیورٹی اقدامات سخت کیے گئے، اور پہلے ہی کشیدہ پاک بھارت تعلقات مزید بگڑ گئے۔
برسی کے موقع پر اپنے بیان میں عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ ایک سال کے دوران بار بار الزامات تو دہرائے، مگر اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں لایا جو پاکستان کے خلاف اس کے دعوؤں کو ثابت کر سکے۔ یہ مؤقف دراصل وہی ہے جو اسلام آباد نے حملے کے فوری بعد اختیار کیا تھا۔ پاکستان نے نہ صرف ان الزامات کو مسترد کیا بلکہ ایک غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
حملے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت کئی پاکستانی رہنماؤں نے بھی یہی کہا تھا کہ بھارت بغیر ثبوت کے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا رہا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف رہا کہ ایسے سنگین نوعیت کے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب بھارت نے اپنے مؤقف میں کوئی نرمی نہیں دکھائی۔ نئی دہلی نے حملے کے فوراً بعد پاکستان میں موجود یا پاکستان سے منسلک عناصر کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ بعد ازاں بھارت نے اسی الزام کو اپنی سفارتی اور سکیورٹی پالیسی کا حصہ بنایا۔ بھارتی حکام نے آپریشن سندھور سمیت مختلف سرکاری بیانات میں کہا کہ 22 اپریل 2025 کا حملہ “پاکستانی اور پاکستان میں تربیت یافتہ دہشت گردوں” نے کیا، جن کے روابط لشکرِ طیبہ سے تھے۔
پہلگام حملے کے بعد بھارت نے کئی سخت اقدامات بھی کیے۔ ان میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی، اٹاری سرحدی گزرگاہ کی بندش، اور سفارتی تعلقات میں مزید کمی جیسے فیصلے شامل تھے۔ یوں ایک واقعہ صرف سکیورٹی معاملہ نہیں رہا بلکہ اس نے دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر سیاسی اور سفارتی بحران کو بھی جنم دیا۔
حملے کی پہلی برسی پر بھارتی قیادت نے زیادہ زور یادگاری تقاریب اور دہشت گردی کے خلاف سخت پیغام پر دیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق برسی کے موقع پر کشمیر کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی بھی بڑھا دی گئی تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ حملہ اب بھی سیاسی، جذباتی اور سکیورٹی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم ایک سال بعد بھی اصل مسئلہ وہیں کھڑا ہے: عوامی سطح پر ایسی کوئی مشترکہ یا عالمی طور پر تسلیم شدہ شہادت سامنے نہیں آسکی جس پر دونوں فریق متفق ہوں۔ بھارتی بیانیے میں مسلسل یہ کہا جاتا رہا کہ حملہ آوروں کے روابط پاکستان میں موجود تنظیموں، خاص طور پر لشکرِ طیبہ اور اس سے منسلک گروہوں سے تھے۔ پاکستان ان دعوؤں کو سیاسی، بے بنیاد اور غیر مصدقہ قرار دیتا رہا ہے۔
پہلگام حملے کے اثرات صرف بیانات تک محدود نہیں رہے۔ اس کے بعد لائن آف کنٹرول پر کشیدگی بڑھی، سفارتی ماحول مزید خراب ہوا، اور خطے میں فوجی تصادم کے خدشات بھی شدت اختیار کر گئے۔ بین الاقوامی مبصرین نے اس وقت خبردار کیا تھا کہ یہ بحران دو جوہری طاقتوں کو ایک بار پھر خطرناک محاذ آرائی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
ایک سال گزرنے کے باوجود دونوں ملکوں کے مؤقف تقریباً منجمد ہو چکے ہیں۔ بھارت آج بھی اس حملے کو پاکستان سے جڑے دہشت گردی کے ڈھانچے کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ الزام آج تک ثابت نہیں کیا جا سکا۔ 26 ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کے لیے یہ تعطل محض سفارتی اختلاف نہیں، بلکہ ایک ایسا سوال ہے جو اب تک جواب طلب ہے: کیا پاکستان کے خلاف مقدمہ واقعی عوامی سطح پر قابلِ اعتبار انداز میں ثابت کیا گیا ہے یا نہیں؟
