بحرین کی حکومت نے قومی سلامتی کو خطرات کا جواز بناتے ہوئے متعدد افراد کی شہریت منسوخ کر دی ہے۔ شاہی فرمان کے ذریعے کیے گئے اس اقدام نے ایک بار پھر ان متنازعہ قوانین پر بحث چھیڑ دی ہے جنہیں ماضی میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں شدید تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔
منامہ میں حکومتی ذرائع کا موقف ہے کہ یہ کارروائی مملکت کو بیرونی سازشوں اور اندرونی بدامنی سے محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر تھی۔ حکومت ان اقدامات کی بنیاد بننے والے ثبوتوں کو عام کرنے سے گریز کرتی ہے، تاہم جن افراد کو ہدف بنایا جاتا ہے، ان پر اکثر عسکریت پسند گروپوں سے روابط یا ایسے اقدامات میں ملوث ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے جو "مملکت کے مفادات کے لیے نقصان دہ” ہوں۔
شہریت کی منسوخی سے متاثرہ افراد ایک ایسی قانونی کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں جس کا کوئی واضح انجام نہیں ہوتا۔ زیادہ تر معاملات میں، متاثرین کو فوری ملک بدری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ جو پہلے ہی بیرونِ ملک مقیم ہیں، ان کی وطن واپسی کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں۔ اس پالیسی کا خمیازہ اکثر ان کے خاندانوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے، کیونکہ بحرین میں شہریت کا حق بنیادی طور پر والد کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جس سے بچوں کے بے وطن ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ شہریت منسوخ کرنے کا قانونی ڈھانچہ غیر شفاف ہے۔ ‘بحرین انسٹی ٹیوٹ فار رائٹس اینڈ ڈیموکریسی’ (BIRD) اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیمیں اس عمل کو سیاسی اختلاف کو دبانے اور کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کا ایک ہتھکنڈہ قرار دیتی ہیں۔ موجودہ قوانین کے تحت، وزارتِ داخلہ کو شہریت منسوخ کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہیں، جبکہ اپیل کا عمل انتہائی محدود ہے، جس سے متاثرہ شخص کو اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کرنے کا موثر موقع نہیں مل پاتا۔
یہ تازہ ترین اقدام خلیجی ریاست میں طویل عرصے سے جاری سیاسی کشیدگی کا تسلسل ہے۔ 2011 کے عرب بہار کے مظاہروں کے بعد سے، حکومت نے اپوزیشن کو غیر فعال کرنے کے لیے عدالتی کریک ڈاؤن، بڑے پیمانے پر ٹرائلز اور انتظامی اقدامات کا سہارا لیا ہے۔ اگرچہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بڑے پیمانے پر شہریت منسوخ کرنے کی شرح میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے، لیکن اس کا قانونی طریقہ کار بدستور برقرار ہے۔
متاثرہ افراد کے لیے اس پالیسی کے نتائج فوری اور زندگی بدل دینے والے ہوتے ہیں۔ ان کے پاسپورٹ منسوخ کر دیے جاتے ہیں، سرکاری سہولیات تک رسائی ختم ہو جاتی ہے، اور ملک میں رہنے کا بنیادی حق چھین لیا جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے سکیورٹی کو ترجیح دینے کی اس پالیسی کے بعد، اب عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ اقدامات نئے سفارتی دباؤ کا باعث بنیں گے یا مملکت اپنے داخلی استحکام کے لیے انسانی حقوق کے عالمی معیارات کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
