جکارتہ — انڈونیشیا کی حکومت نے غزہ کے ایک تباہ شدہ ہسپتال کے ملبے پر اسرائیلی فوجی بینر آویزاں کرنے کے عمل کو "پروپیگنڈا” قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ واقعہ ایک وائرل تصویر کے بعد سامنے آیا جس میں اسرائیلی فوجیوں کو غزہ کی پٹی میں ایک طبی مرکز کے کھنڈرات پر اپنا جھنڈا اور بینر لہراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انڈونیشی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جنگ کے دوران طبی تنصیبات کے تقدس سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا، "یہ بے حسی کا ایک گھناؤنا مظاہرہ ہے۔ ہسپتال جیسی جگہ کو، جو شفا کے لیے مختص ہوتی ہے، فوجی طاقت کے اظہار کے لیے استعمال کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔”
جکارتہ کے لیے یہ محض ایک اشتعال انگیز اقدام نہیں، بلکہ شہری انفراسٹرکچر کی تباہی کو معمول پر لانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ انڈونیشی سفارت کار مہینوں سے جنگ بندی کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ اس قسم کے اقدامات کو ان انسانی امدادی کوششوں کی توہین سمجھتے ہیں جو ان کا ملک غزہ کے لیے کر رہا ہے، جس میں ہسپتال کا جہاز اور طبی ٹیموں کی تعیناتی شامل ہے۔
اسرائیلی فوج کا موقف ہے کہ غزہ میں ان کے آپریشنز کا مقصد ان عسکری تنصیبات کو ختم کرنا ہے جو شہری علاقوں میں چھپائی گئی ہیں۔ تاہم، بینر کی تنصیب نے عالمی مبصرین کو بھی برہم کیا ہے، جن کا ماننا ہے کہ اس تصویر کا کوئی تزویراتی مقصد نہیں، سوائے مقامی آبادی کو تذلیل کا نشانہ بنانے کے۔
اس واقعے کا اثر انڈونیشیا میں بہت گہرا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک ہے اور فلسطینی کاز کا دیرینہ حامی ہے۔ جکارتہ میں عوامی جذبات پہلے ہی شدید اشتعال کا شکار ہیں۔ حکومت ایک مشکل توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے — ایک طرف سفارتی وعدے ہیں اور دوسری طرف اپنے عوام کا غصہ۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ واقعہ مستقبل کے پس پردہ مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ انسانی المیے کی جگہ کو فوجی علامتی نمائش کے لیے استعمال کر کے، اسرائیل نے جنوب مشرقی ایشیائی ثالثوں کی نظر میں اپنی رہی سہی غیر جانبداری کو بھی ختم کر دیا ہے۔
جکارتہ میں مقیم ایک علاقائی تجزیہ کار نے کہا، "وہ صرف زمین پر جنگ نہیں لڑ رہے، بلکہ تاثرات کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ یہ اقدام ایک بڑی غلط فہمی تھی جس نے ممکنہ شراکت داروں کو بھی دور کر دیا ہے۔”
غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بینر والا واقعہ اس بات کی تلخ یاد دہانی ہے کہ اس تنازع میں بیانیے کی جنگ بھی اتنی ہی شدید ہے جتنی کہ میدانِ عمل کی۔ انڈونیشیا کے لیے پیغام واضح ہے: ہسپتال کے ملبے پر پروپیگنڈے کی کوئی جگہ نہیں۔
