ایران نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ اس کی فورسز نے آبنائے ہرمز میں دو تجارتی جہاز اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز پہلے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا تھا۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق زیرِبحث دونوں جہاز ایم ایس سی فرانسسکا اور ایپامینونڈاس ہیں، جبکہ بعض رپورٹس میں ایک تیسرے جہاز پر حملے کا بھی ذکر آیا ہے۔
اس خبر کی اہمیت صرف دو جہازوں تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جنگ بندی کاغذ پر برقرار دکھائی دے رہی ہے، لیکن سمندر میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے پھر بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر تازہ رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے خلاف دوبارہ کارروائیاں کیں، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنا بحری دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔
ایرانی مؤقف یہ بتایا جا رہا ہے کہ ان جہازوں نے جہاز رانی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کی، اسی بنیاد پر انہیں روکا گیا۔ لیکن مغربی ذرائع ابلاغ اس واقعے کو ایک بڑی علاقائی کشیدگی کے حصے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں معمولی رکاوٹ بھی تیل، مال برداری، بیمہ لاگت اور عالمی رسد کے نظام پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
ادھر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع اس لیے کی گئی تاکہ ایران کو ایک واضح اور متحدہ تجویز پیش کرنے کا وقت دیا جا سکے۔ مگر تازہ اطلاعات کے مطابق ایران نے ابھی تک نئے مذاکرات میں عملی شمولیت کی یقین دہانی نہیں کرائی۔ امریکی دباؤ، بحری ناکہ بندی اور متضاد سیاسی اشاروں کے باعث سفارتی عمل تعطل کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔ یوں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ وقتی جنگ بندی کے باوجود اصل تنازع ابھی ختم نہیں ہوا۔
اس ساری صورت حال کا فوری اثر عالمی منڈی پر بھی پڑ رہا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں نئی جھڑپوں اور جہازوں کے خلاف کارروائیوں نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیلا ہے، اور توانائی کی ترسیل کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ مطلب صاف ہے: یہ صرف ایران اور امریکا کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسا بحران بنتا جا رہا ہے جس کا اثر دنیا بھر کی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔
