اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر سے ملاقات میں خطے کی صورتحال، سکیورٹی انتظامات اور اسلام آباد میں مجوزہ بات چیت کے اگلے مرحلے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سفارتی رابطوں کو آگے بڑھایا جائے اور مذاکراتی عمل کو تعطل سے بچایا جائے۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان خود کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک سہولت کار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ الگ رپورٹس کے مطابق محسن نقوی نے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم سے بھی ملاقات کی، جس میں دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ کشیدگی کم کرنے کا واحد قابل عمل راستہ سفارت کاری ہی ہے۔ یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ اسلام آباد پہلے ہی اس عمل کے لیے سکیورٹی اور انتظامی تیاریوں کا اشارہ دے چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی سفارت کار کے ساتھ ملاقات میں وزیر داخلہ نے ممکنہ مذاکراتی دور کے لیے حفاظتی انتظامات پر بریفنگ دی اور امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں بات چیت کا اگلا مرحلہ کامیاب رہے گا۔ بظاہر یہ ایک رسمی نوعیت کی پیش رفت لگ سکتی ہے، مگر سفارتی حلقوں میں ایسے انتظامات عموماً اس بات کی علامت سمجھے جاتے ہیں کہ میزبان ملک کو ابھی بھی مذاکرات کے امکانات موجود نظر آ رہے ہیں۔
تاہم تصویر پوری طرح صاف نہیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں یہ بھی رپورٹ ہوا ہے کہ ایران نے فوری طور پر اسلام آباد جا کر مذاکرات کرنے کے بارے میں ہچکچاہٹ دکھائی، جس سے اگلے دور کے انعقاد پر سوالات اٹھے۔ دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کی گئی تاکہ تہران کی جانب سے ایک مشترکہ مؤقف یا تجویز سامنے آ سکے۔ یعنی راستہ بند نہیں ہوا، لیکن مکمل طور پر ہموار بھی نہیں۔
پاکستان کے لیے اس سارے عمل کی ایک الگ سفارتی اہمیت بھی ہے۔ اگر اسلام آباد واقعی امریکا اور ایران کے درمیان مزید رابطوں کی میزبانی کرتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک ایسے وقت میں اہم سفارتی کامیابی سمجھی جائے گی جب خطے میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے کہ پاکستان صرف حالات کا تماشائی نہیں، بلکہ کشیدگی کم کرانے میں عملی کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
فی الحال محسن نقوی اور امریکی ناظم الامور کی ملاقات سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ پاکستان دوسرے دور کے امکانات کو زندہ رکھنا چاہتا ہے۔ اب اصل سوال یہ نہیں کہ مقام کہاں ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اور تہران ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے سیاسی آمادگی دکھاتے ہیں یا نہیں۔
