لاہور — لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین بچوں کے بہیمانہ قتل کے کیس میں پولیس نے مقتولین کی ماں کو مرکزی ملزمہ نامزد کر دیا ہے۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور تفتیشی ٹیم کی ابتدائی رپورٹس نے کیس کا رخ بدل دیا ہے، جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
چند روز قبل پیش آنے والے اس واقعے میں دو بچیوں اور ایک لڑکے کی لاشیں ان کے گھر سے ملی تھیں۔ ابتدائی طور پر اسے ایک عام واقعہ سمجھا جا رہا تھا، لیکن فرانزک ٹیموں کی رپورٹ اور تفتیش کے بعد پولیس نے ماں کے بیانات اور نقل و حرکت پر توجہ مرکوز کر لی۔
منگل کو ایک پریس بریفنگ کے دوران پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس پیش رفت کی تصدیق کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کا ابتدائی بیان فرانزک شواہد اور جائے وقوعہ سے ملنے والے ڈیجیٹل ڈیٹا سے مطابقت نہیں رکھتا۔
تفتیشی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "خاتون کا فراہم کردہ بیانیہ جانچ پڑتال کے بعد دم توڑ چکا ہے۔ ہم اب اسے ایک غمزدہ ماں کے بجائے ان ہلاکتوں کی ذمہ دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔”
یہ واقعہ مقامی آبادی کے لیے ایک صدمے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اہل محلہ کے مطابق یہ خاندان پرسکون زندگی گزار رہا تھا، جس کی وجہ سے بچوں کی ہلاکت نے پورے علاقے کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔ پولیس اب اس واقعے کے محرکات جاننے کے لیے خاندان کی مالی تاریخ اور گھریلو تنازعات کا جائزہ لے رہی ہے۔
بچوں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔ تفتیشی افسران کا ماننا ہے کہ میڈیکل رپورٹ نے جائے وقوعہ اور ملزمہ کے درمیان وہ "کڑی” فراہم کی ہے جو کیس کو حل کرنے میں کلیدی ثابت ہوئی۔ پولیس کے مطابق اس وقت کسی اور مشتبہ شخص کی تلاش نہیں کی جا رہی۔
ملزمہ فی الحال پولیس کی حراست میں ہے جہاں اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔ حکام اگلے 24 گھنٹوں کے اندر اسے مقامی عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کریں گے۔
اب نگاہیں عدالت پر مرکوز ہیں، جہاں پراسیکیوشن کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ایک پرسکون گھر کا ماحول کیسے قتل گاہ میں بدل گیا۔
