منگل کو پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں 45 پیسے کا مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 288.40 روپے کی سطح پر بند ہوا۔ یہ اضافہ ان درآمد کنندگان کے لیے ایک نیا دھچکا ہے جو پہلے ہی بندرگاہوں پر بڑھتی ہوئی لاگت سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مقامی کرنسی کے لیے رواں ہفتہ خاصا مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔
اوپن مارکیٹ میں صورتحال مزید ابتر رہی جہاں ایکسچینج کمپنیوں نے ڈالر کی قیمت 291 روپے تک وصول کی۔ اسٹیٹ بینک عام طور پر انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کے فرق کو کم رکھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اب یہ فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ صرف بینکاری کے اعداد و شمار نہیں بلکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متوقع اضافے کا براہ راست سبب بھی بنیں گے۔
ایک نجی بینک کے سینئر ٹریژری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آج توانائی کے شعبے کی جانب سے ڈالر کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک دو طرفہ معاہدوں کے تحت متوقع رقوم پاکستان کے اکاؤنٹس میں نہیں پہنچ جاتیں، روپیہ اسی طرح دباؤ کا شکار رہے گا۔ اس وقت مارکیٹ میں فروخت کے مقابلے میں خریداری کا رجحان کہیں زیادہ ہے۔
ڈالر کے ساتھ ساتھ دیگر بڑی کرنسیوں کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ یورو 312.50 روپے اور برطانوی پاؤنڈ 364.20 روپے کی سطح پر پہنچ گیا، جس سے بیرون ملک تعلیم اور ترسیلِ زر کے اخراجات متوسط طبقے کی پہنچ سے مزید دور ہو گئے ہیں۔ خلیجی ممالک کی کرنسیوں میں سعودی ریال 76.90 روپے اور اماراتی درہم 78.50 روپے پر ٹریڈ ہوا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ڈیلرز کا کہنا ہے کہ کرنسی کی قیمتوں میں اس غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو تذبذب میں ڈال دیا ہے۔ فی الحال اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ میں مداخلت سے گریز کیا ہے اور قیمتوں کا تعین مارکیٹ کی طلب و رسد پر چھوڑ دیا ہے، چاہے اس کا بوجھ عام صارف کی جیب پر ہی کیوں نہ پڑے۔
آنے والے چند روز روپے کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر انٹربینک میں ڈالر 290 روپے کی نفسیاتی حد عبور کرتا ہے تو ماہرین کے مطابق کارپوریٹ سیکٹر میں ڈالر کی خریداری کا ایک نیا ہیجان پیدا ہو سکتا ہے۔ فی الحال پوری مارکیٹ اسٹیٹ بینک کے اگلے قدم کی منتظر ہے۔
