وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔ یہ اعلان اسلام آباد میں ایک اجلاس کے دوران سامنے آیا، جہاں ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت اس منصوبے کو صرف سفری سہولت نہیں بلکہ ایندھن کے بڑھتے ہوئے درآمدی بوجھ، مہنگے پٹرول اور ماحولیاتی آلودگی کے تناظر میں بھی اہم قرار دے رہی ہے۔
حکومتی مؤقف یہ ہے کہ الیکٹرک بائیکس کی طرف منتقلی سے ایک طرف عام ملازمین کے روزمرہ سفری اخراجات میں کمی آئے گی، اور دوسری طرف ملک کے درآمدی بل پر بھی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے اجلاس میں زور دیا کہ پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کو تیزی سے فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔
یہ اعلان دراصل حکومت کی وسیع تر ای وی پالیسی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اس سے پہلے بھی حکومت الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے لیے سبسڈی پروگرام سامنے لا چکی ہے، جس کے تحت ایک بڑی تعداد میں ای بائیکس فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔ سرکاری سطح پر یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس پروگرام میں خواتین کے لیے مخصوص کوٹہ رکھا جائے گا تاکہ کم خرچ اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
نئے اعلان کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں سرکاری ملازمین، خصوصاً کم اور متوسط آمدنی والے طبقے، کو براہِ راست ہدف بنایا گیا ہے۔ ایسے ملازمین جو روزانہ موٹر سائیکل پر دفتر آتے جاتے ہیں، وہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے آسان اقساط پر ای بائیکس کا منصوبہ ان کے لیے محض ایک سرکاری اسکیم نہیں بلکہ ممکنہ مالی ریلیف بھی بن سکتا ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ کم آمدنی والے افراد کے لیے الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی سبسڈی پر عملدرآمد بھی تیز کیا جائے اور پورا عمل شفاف رکھا جائے۔ حکومتی حلقے پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ درخواستوں، جانچ پڑتال اور سبسڈی کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل نظام اختیار کیا جائے گا تاکہ شکوک و شبہات کم ہوں اور اصل مستحقین تک سہولت پہنچے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے لیے درجنوں مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ الیکٹرک کاروں کے لیے بھی چند منظوریوں کا اجرا ہوا ہے۔ حکومت اس پیش رفت کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہی ہے کہ ملک میں صرف مانگ پیدا کرنے کی بات نہیں ہو رہی بلکہ سپلائی سائیڈ بھی آہستہ آہستہ تیار کی جا رہی ہے۔
تاہم ابھی کئی اہم سوالات جواب طلب ہیں۔ مثال کے طور پر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کے لیے ماہانہ قسط کتنی ہوگی، کن بینکوں یا مالیاتی اداروں کے ذریعے فنانسنگ ہوگی، درخواست دینے کا طریقہ کیا ہوگا، اور آیا یہ اسکیم موجودہ سبسڈی پروگرام کا حصہ ہوگی یا اس سے الگ چلائی جائے گی۔ یہی تفصیلات آخرکار طے کریں گی کہ یہ اعلان واقعی ایک مؤثر عوامی ریلیف بنتا ہے یا صرف پالیسی سطح کا بیان رہ جاتا ہے۔
فی الحال اتنا ضرور واضح ہے کہ وفاقی حکومت الیکٹرک بائیکس کو ایک ساتھ کئی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے: عوامی ریلیف، درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی، اور مقامی صنعت کے لیے نئی گنجائش۔ سرکاری ملازمین کے لیے آسان اقساط پر ای بائیکس کا اعلان اسی بڑی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ حکومت اس منصوبے کی عملی تفصیلات کب اور کیسے سامنے لاتی ہے۔
