عالمی منڈی میں جمعہ کو تیل کی قیمتوں میں پھر تیزی دیکھی گئی اور برینٹ خام تیل 106.26 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 96.80 ڈالر کے قریب ٹریڈ ہوتا رہا۔ منڈی کے لیے اصل تشویش آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی ہے، جہاں جہاز رانی میں رکاوٹ اور سکیورٹی خدشات نے تاجروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ 100 ڈالر سے اوپر کا تیل محض عارضی جھٹکا نہیں بھی ہو سکتا۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2025 میں اوسطاً 2 کروڑ بیرل یومیہ خام تیل اور آئل پراڈکٹس اس راستے سے گزرتے رہے، اس لیے یہ دنیا کے سب سے اہم آئل ٹرانزٹ چوک پوائنٹس میں شمار ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے وہاں معمولی رکاوٹ بھی عالمی قیمتوں پر فوری اثر ڈالتی ہے، اور اس بار تو صورتحال محض نفسیاتی نہیں بلکہ عملی سپلائی رسک میں بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔
تازہ کشیدگی کے مرکز میں امریکہ اور ایران کے درمیان وہ تعطل ہے جو سفارتی سطح پر بھی ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ایرانی کشتیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اسی رپورٹ کے مطابق امریکی افواج نے مائن کلیئرنگ آپریشنز بڑھا دیے ہیں، جبکہ ایران سے منسلک ایک ٹینکر کی پکڑ دھکڑ اور متعدد بحری حملوں نے حالات مزید بگاڑ دیے ہیں۔
سفارتی محاذ پر بھی تصویر صاف نہیں۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق اسلام آباد میں متوقع امریکی۔ایرانی بات چیت تعطل کا شکار ہے، اور اختلافات صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہے بلکہ آبنائے ہرمز، علاقائی اثر و رسوخ اور بحری سلامتی جیسے معاملات بھی اب مذاکرات کے بیچ آ کھڑے ہوئے ہیں۔ رائٹرز پر مبنی ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر بات چیت آگے بھی بڑھی تو شاید زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکے کہ ہرمز دوبارہ کھل جائے، مگر وسیع تر کشیدگی کم نہ ہو۔
اصل مسئلہ یہی ہے: منڈی اس وقت رسمی بیانات سے زیادہ زمینی حقیقت دیکھ رہی ہے۔ اگر راستہ کاغذ پر کھلا بھی ہو مگر جہاز محفوظ انداز میں نہ گزر سکیں، بیمہ مہنگا ہو جائے، یا بحری کمپنیوں کو حملے کا ڈر رہے، تو قیمتوں میں تناؤ برقرار رہتا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے بھی نشاندہی کی ہے کہ جنگ کے بعد ہرمز سے گزرنے والی ترسیل 2 کروڑ بیرل یومیہ کے قریب معمول کی سطح سے گر کر انتہائی کم رہ گئی، اور محدود متبادل راستوں کے باعث خلیجی پیداوار پر بھی دباؤ پڑا۔
یہی وجہ ہے کہ 106 ڈالر سے اوپر جاتا ہوا تیل صرف ایک قیمت نہیں، بلکہ ایک انتباہ ہے۔ جب تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان قابلِ اعتماد پیش رفت نہیں ہوتی، آبنائے ہرمز میں ہر نیا واقعہ عالمی توانائی منڈی کو ہلا سکتا ہے۔ فی الحال سرمایہ کار یہی مان کر چل رہے ہیں کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔
