اسلام آباد: پاکستان کی آٹو امپورٹ پالیسی ایک اہم موڑ پر آ پہنچی ہے۔ حکومت ایک طرف استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں پر پرانی پابندیاں بتدریج نرم کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے، تو دوسری طرف وہی حکومت ان گاڑیوں کے لیے ماحولیاتی، حفاظتی اور جانچ کے قواعد کہیں زیادہ سخت بنانے کی تیاری بھی کر رہی ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اصلاحاتی فریم ورک کے تحت پاکستان نے بعض نان ٹیرف رکاوٹیں کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ گاڑیوں کی درآمد بغیر سخت معیار کے نہیں کھولی جائے گی۔
حکومتی پالیسی کا بنیادی خاکہ یہ ہے کہ کمرشل بنیاد پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی جائے، لیکن ابتدا میں صرف پانچ سال تک پرانی گاڑیوں کو لانے کی گنجائش ہو۔ اس کے بعد عمر کی حد میں نرمی کا راستہ رکھا گیا ہے، تاہم ماحولیاتی اور سیفٹی اسٹینڈرڈز پر مکمل عملدرآمد لازمی ہوگا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے اسی سمت میں امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ترمیم کی منظوری دی تھی، جس کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کو اصولی اجازت دی گئی۔
یہاں اصل کہانی صرف “امپورٹ کھولنے” کی نہیں، بلکہ “کن شرائط پر کھولنے” کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق حکومت نے imported vehicles کے لیے ماحول دوست اور حفاظتی شرائط سخت کرنے، معائنہ نظام بہتر بنانے اور غلط استعمال روکنے کے لیے الگ ریگولیٹری ڈھانچہ بنانے پر کام تیز کر دیا ہے۔ ایک مرحلے پر پاکستان میں گاڑیوں کے حفاظتی معیارات کی تعداد 17 سے بڑھا کر 62 کرنے کی بھی خبر سامنے آئی، جس کا مقصد یہ بتایا گیا کہ درآمدی گاڑیاں بنیادی سیفٹی، ایئربैگ، اوڈومیٹر، حادثاتی تاریخ اور دیگر تکنیکی جانچ کے تقاضوں پر پوری اتریں۔
حکومت کے لیے یہ توازن آسان نہیں۔ ایک طرف آئی ایم ایف اور معاشی اصلاحات کا دباؤ ہے، جو آٹو سیکٹر میں تحفظ پسند رکاوٹیں کم کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے اپنی سابقہ دستاویزات میں پاکستان کے آٹو سیکٹر کو “خاص طور پر محفوظ” قرار دیتے ہوئے مقامی پیداوار کے حق میں دی گئی ترجیحی سہولتوں اور بلند حفاظتی دیواروں پر سوال اٹھایا تھا۔ دوسری طرف مقامی اسمبلرز اور آٹو پارٹس انڈسٹری کو خدشہ ہے کہ اگر مارکیٹ بہت تیزی سے کھول دی گئی تو مقامی پیداوار، سرمایہ کاری اور روزگار متاثر ہو سکتا ہے۔
اسی لیے حکومت کا موجودہ مؤقف نسبتاً محتاط دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف صارفین کو زیادہ انتخاب دینے، قیمتوں میں ممکنہ مسابقت لانے اور مقامی مارکیٹ پر دباؤ کم کرنے کی بات ہو رہی ہے؛ دوسری طرف کمرشل درآمدات پر اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ ای سی سی کے فیصلے کے مطابق پانچ سال سے کم پرانی imported used vehicles پر 40 فیصد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی، جسے بعد میں بتدریج کم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ یوں حکومت نے یہ اشارہ دیا کہ مارکیٹ کو اچانک مکمل طور پر آزاد نہیں کیا جائے گا۔
وزارتِ تجارت کی سطح پر بھی اس معاملے کو صرف درآمدی سہولت کے طور پر نہیں بلکہ نگرانی کے مسئلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی وزیر جام کمال خان اور متعلقہ حکام نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد، لوکل مینوفیکچررز کے تحفظ اور اوورسیز پاکستانیوں کے جائز مفادات کے درمیان توازن پر غور کیا۔ اسی بحث میں پری شپمنٹ اور پوسٹ شپمنٹ انسپیکشن، انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے کردار، اور امپورٹ اسکیموں کے غلط استعمال کی روک تھام جیسے نکات نمایاں رہے۔
یہ “غلط استعمال” کوئی معمولی نکتہ نہیں۔ برسوں سے پاکستان میں بیگیج، گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیموں کے تحت گاڑیاں منگوائی جاتی رہی ہیں، مگر صنعت اور پالیسی ساز حلقوں میں یہ شکایت موجود رہی کہ بعض کمرشل کھلاڑی انہی رعایتی راستوں کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسی لیے نئی پالیسی بحث میں صرف درآمد بڑھانے کی بات نہیں، بلکہ اس پورے نظام کو زیادہ شفاف، دستاویزی اور قابلِ نگرانی بنانے کی کوشش بھی شامل ہے۔
صارفین کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس پالیسی میں کشش بھی ہے۔ اگر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد زیادہ منظم انداز میں کھلتی ہے تو مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے، خاص طور پر چھوٹی اور درمیانی درجے کی گاڑیوں میں۔ لیکن اس کے ساتھ خدشہ بھی جڑا ہے: اگر معیار کی جانچ کمزور ہوئی یا قوانین میں خلا رہا، تو سستی مگر ناقص، حادثہ زدہ یا تکنیکی طور پر کمزور گاڑیاں بھی مارکیٹ کا رخ کر سکتی ہیں۔ اسی خطرے نے حکومت کو “سخت قواعد” کی زبان اپنانے پر مجبور کیا ہے۔
معاشی تناظر بھی اس بحث کو اہم بناتا ہے۔ پاکستان اب بھی آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت اصلاحات کے عمل میں ہے، اور بین الاقوامی مالی معاونت کا تسلسل اکثر انہی ساختی تبدیلیوں سے جوڑا جاتا ہے۔ دسمبر 2025 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے مزید فنڈنگ کی منظوری دیتے ہوئے وسیع تر معاشی استحکام اور اصلاحات کی پیش رفت کا حوالہ دیا تھا۔ اس پس منظر میں گاڑیوں کی درآمد کا معاملہ محض آٹو سیکٹر کی پالیسی نہیں، بلکہ تجارت، محصولات، صنعتی تحفظ اور بین الاقوامی مالیاتی شرائط کے سنگم پر کھڑا ایک حساس معاملہ بن چکا ہے۔
خلاصہ یہی ہے: پاکستان استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کے لیے دروازہ کھول رہا ہے، مگر پورا نہیں۔ آئی ایم ایف کے دباؤ نے پرانی رکاوٹیں نرم کرنے کی رفتار تیز کی ہے، لیکن حکومت اس عمل کو سخت حفاظتی، ماحولیاتی اور انسپیکشن شرائط کے ساتھ باندھنا چاہتی ہے۔ یعنی اب بحث صرف یہ نہیں رہی کہ imported vehicles آئیں گی یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کون سی گاڑیاں آئیں گی، کس معیار پر آئیں گی، اور کس نگرانی کے تحت پاکستانی سڑکوں تک پہنچیں گی۔
