اسلام آباد — نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے جس میں خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور ایران و امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری بیان کے مطابق، یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان ایک مشکل توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام آباد کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ سٹریٹجک تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو بھی محفوظ رکھے۔
اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران خطے میں امن و امان کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ کسی بھی قسم کی فوجی جھڑپ پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو خدشہ ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع بڑھا تو اس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی سرحدوں اور معاشی استحکام پر پڑیں گے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال انتہائی نازک ہے۔ سرحد پار کشیدگی نہ صرف تجارت کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ توانائی کے منصوبوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ اسلام آباد کی کوشش ہے کہ وہ فریقین کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرے تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔
اسحاق ڈار کی یہ سفارتی سرگرمی تنہا نہیں ہے۔ پاکستان پس پردہ واشنگٹن کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ تحمل کا مظاہرہ کیا جا سکے۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے سخت موقف کے باعث سفارتی گنجائش بہت محدود ہے۔
وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "پاکستان خطے میں امن کے لیے پرعزم ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ بنیادی فریقین فی الحال کسی بھی قسم کی مفاہمت کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔”
سفارتی کوششیں اپنی جگہ، لیکن حکومت کی اولین ترجیح پاکستان کو اس ممکنہ علاقائی بحران کے اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ کیا یہ کوششیں کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچ پائیں گی، یہ سوال ابھی بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
