لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین کم سن بچوں کے قتل کے افسوس ناک کیس میں تفتیش نے ایک ہولناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کی والدہ، جس کی شناخت بعض رپورٹس میں رضا/ردا کے نام سے کی گئی، نے دورانِ تفتیش مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدگی چاہتی تھی اور اسے یہ احساس تھا کہ شوہر بچوں کی وجہ سے اس سے الگ نہیں ہو رہا۔ تفتیش کاروں کے مطابق یہی بات اس مبینہ جرم کے پس منظر میں ایک اہم محرک کے طور پر سامنے آئی ہے۔
پولیس اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاں بحق بچوں میں دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل تھے۔ واقعے کے بعد گھر سے شواہد اکٹھے کیے گئے، جبکہ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کیا گیا۔ اس سانحے نے لاہور میں شدید صدمہ اور غم کی فضا پیدا کی، کیونکہ معاملہ ایک عام فوجداری واردات نہیں بلکہ ایک ہی گھر کے اندر پیش آنے والا نہایت سفاک واقعہ تھا۔
ابتدائی مرحلے میں پولیس نے گھر کے کئی افراد سے پوچھ گچھ کی، کیونکہ واقعے کے فوراً بعد تصویر پوری طرح واضح نہیں تھی۔ بعد ازاں، سی سی ٹی وی، بیانات اور دیگر شواہد کا جائزہ لینے کے بعد تفتیش کا رخ والدہ کی مبینہ شمولیت کی طرف مڑتا گیا۔ سما اور اے آر وائی کی رپورٹس کے مطابق پولیس اب اس مؤقف پر ہے کہ قتل سوچے سمجھے انداز میں کیا گیا۔
کیس میں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ پولیس کے مطابق قتل میں استعمال ہونے والا چاقو مبینہ طور پر واقعے سے پہلے خریدا گیا تھا، جسے تفتیش کار منصوبہ بندی کے پہلو سے جوڑ رہے ہیں۔ اے آر وائی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گھر کے کمرے اور باتھ روم دونوں سے خون کے شواہد ملے ہیں، جبکہ فرانزک تجزیہ جاری ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ واردات کس ترتیب سے ہوئی۔
عدالتی پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ 24 نیوز ایچ ڈی کی رپورٹ کے مطابق ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پولیس نے مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ مانگا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ عدالت نے پولیس کو مزید تحقیقات کے لیے ریمانڈ دیا تاکہ شواہد، فرانزک نتائج اور دیگر تفتیشی پہلو مکمل کیے جا سکیں۔
یہ کیس صرف ایک مجرمانہ واقعہ نہیں رہا، بلکہ اس نے گھریلو تنازعات، ذہنی دباؤ، خاندانی نظام اور بچوں کے تحفظ سے متعلق بڑے سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ پولیس کے دعوے اور مبینہ اعترافات اب بھی تفتیشی مرحلے کا حصہ ہیں، اور حتمی قانونی ذمہ داری کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ فی الحال، لاہور ایک ایسے سانحے پر سوگوار ہے جس نے تین معصوم جانیں چھین لیں
