چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے ایک منتقل شدہ جج کو واپس سندھ ہائی کورٹ بھیجنے کی تجویز پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق ایسا کرنا عدالتی تبادلوں کے اُس آئینی مقصد کو کمزور کر دے گا جسے وفاقی نمائندگی اور ادارہ جاتی توازن کے لیے اختیار کیا گیا تھا۔ ڈان کے مطابق چیف جسٹس نے اپنے جواب میں کہا کہ اگر جسٹس خادم حسین سومرو کو واپس سندھ ہائی کورٹ بھیج دیا گیا تو اس سے آئین میں موجود بعض بنیادی تصورات عملاً غیر مؤثر ہو جائیں گے۔
یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے ممکنہ تبادلوں سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس 28 اپریل 2026 کو بلانے کی استدعا کی تھی تاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں خدمات انجام دینے والے پانچ ججوں کو دیگر ہائی کورٹس منتقل کرنے پر غور کیا جا سکے۔ ان ناموں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس سمن رفعت امتیاز اور جسٹس خادم حسین سومرو شامل تھے۔
چیف جسٹس آفریدی کا اعتراض محض انتظامی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ اس کی بنیاد آئینی تھی۔ ان کے مطابق اگر ججوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس لیے منتقل کیا گیا تھا کہ عدالت کی ساخت میں وفاقی نمائندگی برقرار رہے، تو پھر انہیں بغیر کسی مضبوط ادارہ جاتی ضرورت کے واپس بھیج دینا اس پوری مشق کو عارضی اور کمزور بنا دے گا۔ دوسرے لفظوں میں، ایسا لگے گا جیسے تبادلہ کوئی مستقل آئینی بندوبست نہیں بلکہ ایک وقتی انتظامی قدم تھا جسے جب چاہا الٹ دیا گیا۔
چیف جسٹس نے نمائندگی کے پہلو پر بھی زور دیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس سمن رفعت امتیاز دونوں کو سندھ ہائی کورٹ بھیج دیا گیا تو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سندھ کی نمائندگی ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ پیش کی گئی درخواست میں اتنی واضح وجوہات بیان نہیں کی گئیں جن کی بنیاد پر اس نوعیت کے تبادلوں کو آئینی یا ادارہ جاتی طور پر ضروری قرار دیا جا سکے۔ ان کے مطابق اگر کسی جج کی منتقلی کے لیے ٹھوس وجہ نہ ہو تو ایسا اقدام سزا نما تاثر بھی پیدا کر سکتا ہے۔
یہ تنازع دراصل آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ججوں کے تبادلوں سے متعلق اُس بڑے قانونی اختلاف کا حصہ ہے جو کافی عرصے سے جاری ہے۔ فروری 2025 میں لاہور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ سے تین ججوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں اور بعض وکلا تنظیموں نے ان تبادلوں کو چیلنج کیا، خاص طور پر اس بنیاد پر کہ ان کا ججوں کی سینیارٹی اور آئینی حیثیت پر کیا اثر پڑتا ہے۔
اس معاملے کا ایک اہم پس منظر یہ بھی ہے کہ وفاقی حکومت نے پہلے انہی تبادلوں کا دفاع اسلام آباد ہائی کورٹ کے وفاقی کردار کے تناظر میں کیا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی تشکیل میں وفاق کی مختلف اکائیوں کی نمائندگی جھلکنی چاہیے۔ سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے بھی عدالتی ریکارڈ میں کہا تھا کہ جسٹس سومرو کے تبادلے کا عمل وزارتِ قانون کے ذریعے آرٹیکل 200 کے تحت شروع ہوا، متعلقہ چیف جسٹس کی رضا مندی حاصل کی گئی اور جج کی رضامندی بھی موجود تھی۔
اس قانونی تنازع میں ایک بڑی پیش رفت جون 2025 میں ہوئی تھی، جب سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 3-2 کی اکثریت سے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کے تبادلے غیر آئینی نہیں تھے۔ بینچ نے کہا تھا کہ آرٹیکل 200 کے تحت تبادلہ نئی تقرری کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا، جبکہ سینیارٹی اور تبادلے کی نوعیت جیسے معاملات کو صدارتی نوٹیفکیشن یا حکم کے ذریعے واضح کیا جا سکتا ہے۔
یوں یہ معاملہ صرف ایک جج یا چند ناموں تک محدود نہیں رہا۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں بین الہائی کورٹ تبادلوں کا مقصد کیا ہے، اور کیا انہیں ادارہ جاتی استحکام اور وفاقی توازن کے لیے استعمال کیا جائے گا یا محض انتظامی ردوبدل کے طور پر دیکھا جائے گا۔ چیف جسٹس آفریدی کے تازہ مؤقف نے اس بحث کو ایک بار پھر مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
