نیویارک: براڈوے پر پیش کیے گئے نئے میوزیکل “BOOP! The Musical” نے صرف ایک پرانی کارٹون شخصیت کو اسٹیج پر زندہ نہیں کیا، بلکہ اسے ایک ایسے عہد کی کہانی بنا دیا جس میں لوگ، خاص طور پر خواتین، تھکن بھرے حالات کے درمیان کچھ روشنی، کچھ امید اور تھوڑا سا رقص ڈھونڈ رہی ہیں۔ شو نے براڈہرسٹ تھیٹر میں پیش نظاروں کا آغاز 11 مارچ 2025 کو کیا اور اس کی باضابطہ افتتاحی پیشکش 5 اپریل 2025 کو ہوئی۔
یہ میوزیکل کلاسیکی کردار بیٹی بوپ کے گرد گھومتا ہے، جو اپنی سیاہ و سفید شہرت بھری دنیا سے نکل کر ایک دن کی آزادی چاہتی ہے۔ شو کی سرکاری کہانی کے مطابق وہ پھر ایک رنگین، موسیقی سے بھرپور اور محبت کے امکانات والی جدید نیویارک کی دنیا میں جا پہنچتی ہے۔ یہی بنیادی خیال اس پروڈکشن کو صرف نوستالجیا تک محدود نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے خود شناخت، آزادی اور نئی شروعات کے موضوعات سے جوڑ دیتا ہے۔
اس شو کے تخلیقی نام بھی کم وزن نہیں رکھتے۔ ڈیوڈ فوسٹر نے اس کی موسیقی دی، سوسن برکن ہیڈ نے گیت لکھے، باب مارٹن نے کتاب ترتیب دی، جبکہ ہدایت کاری اور کوریوگرافی جیری مچل نے کی۔ سرکاری اور تھیٹر کوریج دونوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پروڈکشن کو ایک بھرپور بصری اور رقص سے لبریز براڈوے تجربہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
مرکزی کردار میں جیسمین ایمی راجرز نے بیٹی بوپ کا روپ دھارا، اور بہت سے مبصرین کے نزدیک یہی پرفارمنس شو کی سب سے مضبوط بنیاد بنی۔ پلے بل کی رپورٹ کے مطابق راجرز کو 2025 کے ٹونی ایوارڈز میں بہترین اداکارہ برائے میوزیکل کے لیے نامزدگی ملی، جبکہ People کی رپورٹ میں ان کے براڈوے ڈیبیو کو نمایاں پیش رفت قرار دیا گیا۔
راجرز کی اپنی جدوجہد بھی اس کہانی کو ایک انسانی رنگ دیتی ہے۔ People کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ابتدا میں اس کردار کے لیے ایک اہم آڈیشن خراب کر دیا تھا، پھر اپنی صلاحیت بہتر کی، خاص طور پر ڈانس اور ٹیپ کی مشق کی، اور آخرکار یہی کردار حاصل کیا۔ اس پس منظر نے ان کی اسٹیج موجودگی کو اور معنی خیز بنا دیا، کیونکہ “بوپ!” جیسا شو محض خوبصورت لباس اور روشن سیٹ سے نہیں چلتا؛ اسے ایسا فن کار چاہیے جو معصومیت، توانائی اور جذبات — تینوں ساتھ لا سکے۔
شو کی ایک خاص کشش اس کا بصری تضاد بھی رہا: ایک طرف 1930 کی دہائی سے جڑی سیاہ و سفید کارٹون دنیا، دوسری طرف آج کے نیویارک کی شوخ، رنگین اور دھڑکتی ہوئی فضا۔ تھیٹر کوریج میں بار بار اس تبدیلی کو شو کی بڑی طاقت قرار دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس میوزیکل کو بہت سے ناظرین نے محض تفریح نہیں، بلکہ ایک طرح کی آسودگی کے تجربے کے طور پر بھی دیکھا — جیسے بھاری خبروں اور بے یقینی کے دور میں کوئی نرم، گرم یاد آ جائے۔
اس پروڈکشن کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ تھا کہ اس نے بیٹی بوپ کو صرف ماضی کی ایک دلکش علامت کے طور پر پیش نہیں کیا، بلکہ ایک ایسی عورت کے طور پر بھی دکھایا جو اپنی زندگی کی سمت خود طے کرنا چاہتی ہے۔ اسی لیے یہ شو مختلف عمروں کی خواتین کے لیے الگ الگ معنی رکھتا ہے: کم عمر ناظرین کے لیے شاید خود کو دریافت کرنے کی کہانی، اور بڑی عمر کی خواتین کے لیے یہ یاد دہانی کہ خواب دیکھنے یا اپنے آپ کو نئے سرے سے گڑھنے کی کوئی معیاد نہیں ہوتی۔ یہ مفہوم شو کی سرکاری پیشکش اور اس پر لکھی گئی فیچر کوریج سے ابھرتا ہے۔
تاہم براڈوے کا تجارتی دباؤ ہمیشہ سخت ہوتا ہے۔ مثبت توجہ، نمایاں اداکاری اور ٹونی نامزدگی کے باوجود “BOOP! The Musical” کی براڈوے دوڑ طویل ثابت نہ ہو سکی۔ معتبر تھیٹر رپورٹوں کے مطابق شو 13 جولائی 2025 کو بند ہو گیا، اور اس نے 25 پریویوز اور 112 باقاعدہ پرفارمنسز مکمل کیں۔
اس کے باوجود “بوپ!” کی اہمیت ختم نہیں ہوتی۔ بعض اوقات تھیٹر کا کام صرف چونکانا نہیں ہوتا، سہارا دینا بھی ہوتا ہے۔ اور “BOOP!” نے کم از کم یہی کوشش کی: ایک ایسی شام دینا جس میں موسیقی ہو، حرکت ہو، رنگ ہو، اور یہ احساس بھی کہ سخت دنوں میں بھی خواب دیکھنا اور ناچنا فضول بات نہیں۔
