چین اپنی ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں، خاص طور پر مصنوعی ذہانت سے وابستہ اداروں، میں امریکی سرمایہ کاری پر مزید سخت نگرانی کی تیاری کر رہا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق چینی حکام چاہتے ہیں کہ بڑی ٹیک کمپنیوں اور اے آئی اسٹارٹ اپس کو امریکی سرمایہ قبول کرنے سے پہلے سرکاری منظوری لینا ہو۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم جزوی طور پر اس تشویش کے بعد سامنے آیا ہے جو میٹا کے مبینہ معاہدے کے تناظر میں بیجنگ میں بڑھی۔ بلومبرگ کے مطابق نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن سمیت بعض اداروں نے چند نجی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ امریکی سرمایہ کاروں سے فنڈنگ لینے سے پہلے باضابطہ منظوری حاصل کریں۔ اس سلسلے میں مون شاٹ اے آئی اور اسٹیپ فن جیسی کمپنیوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔
بظاہر یہ ایک انتظامی فیصلہ لگتا ہے، مگر اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں۔ چین پہلے ہی اپنے ٹیک سیکٹر پر مضبوط ریاستی کنٹرول رکھتا ہے، لیکن اب اشارہ یہ مل رہا ہے کہ بیجنگ سرمایہ کاری کے ذرائع کو بھی قومی مفاد اور اسٹریٹجک حساسیت کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، پیسہ اب صرف پیسہ نہیں رہا؛ خاص طور پر جب وہ امریکہ سے آئے اور منزل جدید ٹیکنالوجی ہو۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ خود بھی چین کی حساس ٹیکنالوجی صنعتوں میں امریکی سرمایہ کے بہاؤ پر پابندیوں کا نظام نافذ کر چکا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق 2 جنوری 2025 سے آؤٹ باؤنڈ انویسٹمنٹ پروگرام نافذ ہے، جس کے تحت سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں بعض سرمایہ کاری ممنوع ہے جبکہ بعض کے لیے پیشگی اطلاع یا جانچ ضروری ہے۔
اسی لیے چین کا تازہ قدم صرف ایک الگ واقعہ نہیں بلکہ وسیع تر امریکی۔چینی ٹیک کشمکش کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف یہ رہا ہے کہ امریکی سرمایہ اور مہارت ایسی چینی ٹیکنالوجیز کو تقویت نہ دیں جو فوجی، انٹیلی جنس یا سائبر مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ اب بیجنگ بھی لگتا ہے کہ اسی میدان میں اپنی طرف سے سرحدیں کھینچ رہا ہے، البتہ اس کا زور قومی نگرانی اور سرمایہ کے سیاسی اثرات پر زیادہ ہے۔
چین کے اندر ایک اور تشویش بھی موجود ہے: یہ خوف کہ تیزی سے ابھرتی ہوئی اے آئی کمپنیاں غیر ملکی سرمایہ یا عالمی توسیع کی خاطر اپنی ساخت، فیصلہ سازی یا کاروباری سمت اس انداز میں بدل سکتی ہیں جس سے ان کا چینی ریاستی ڈھانچے سے تعلق کمزور پڑ جائے۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بیجنگ میں اس بات پر فکر بڑھ رہی ہے کہ اہم اے آئی کمپنیاں بیرونی سرمایہ کے دباؤ یا کشش کے تحت “چائنا شیڈنگ” کی طرف جا سکتی ہیں۔
اگر یہ پالیسی واقعی سخت شکل میں نافذ ہوتی ہے تو اس کے فوری اثرات چینی اسٹارٹ اپس پر پڑ سکتے ہیں۔ امریکی سرمایہ کار صرف رقم ہی نہیں لاتے، بلکہ عالمی نیٹ ورک، مارکیٹ تک رسائی اور بین الاقوامی ساکھ بھی ساتھ لاتے ہیں۔ منظوری کا نیا نظام فنڈ ریزنگ کو سست کر سکتا ہے، سرمایہ کاری کے معاہدوں کو پیچیدہ بنا سکتا ہے، اور کئی کمپنیوں کو ریاستی یا مقامی سرمایہ کے ذرائع پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ پابندی محدود نگرانی تک رہے گی یا آگے چل کر چین اور امریکہ کے درمیان ٹیک سرمایہ کاری کے بڑے راستے ہی تنگ کر دے گی۔ فی الحال اتنا واضح ہے کہ دونوں بڑی طاقتیں اب ٹیکنالوجی کی دوڑ کو صرف تحقیق، چِپس یا مصنوعات تک محدود نہیں سمجھ رہیں؛ ملکیت، سرمایہ اور اثر و رسوخ بھی اسی مقابلے کا حصہ بن چکے ہیں۔
