پاکستان نے ہفتہ کے روز اعلان کیا کہ اس نے اپنا مقامی الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ EO-3 چین کے تائی یوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا ہے، جو ملک کے بڑھتے ہوئے خلائی پروگرام میں ایک اور اہم پیش رفت ہے۔ یہ لانچ 25 اپریل 2026 کو ہوئی اور اس کی تصدیق اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے کی۔
یہ سیٹلائٹ پاکستان کی ارتھ آبزرویشن صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اسے زراعت، شہری منصوبہ بندی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ماحولیاتی نگرانی اور غذائی تحفظ کی منصوبہ بندی میں استعمال کیا جائے گا۔
مشن کی تفصیلات کے مطابق EO-3 میں کچھ جدید تجرباتی ٹیکنالوجیز بھی شامل ہیں، جن میں ملٹی جیومیٹری امیجنگ ماڈیول، جدید توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور آن بورڈ مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا پروسیسنگ یونٹ شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے سیٹلائٹس کی تعداد بڑھا رہا ہے بلکہ آئندہ نسل کی ٹیکنالوجیز کو بھی آزما رہا ہے تاکہ ڈیٹا کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
یہ لانچ پاکستان کے خلائی پروگرام کے ایک مصروف دور میں ہوئی ہے۔ اس سے قبل EO-2 کو فروری 2026 میں چین سے مدار میں بھیجا گیا تھا، جبکہ EO-1 جنوری 2025 میں لانچ کیا گیا تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سپارکو مقامی ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹس کی ایک مسلسل سیریز تیار کرنے پر کام کر رہا ہے۔
اسلام آباد کے لیے اس کامیابی کی اصل اہمیت صلاحیت اور تسلسل میں ہے۔ اگرچہ سیٹلائٹ لانچز عام طور پر عوامی توجہ کا مرکز زیادہ دیر تک نہیں بنتے، لیکن یہ پسِ پردہ کئی اہم شعبوں میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، جن میں فصلوں کا تخمینہ، زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی، ماحولیاتی نگرانی، انفراسٹرکچر مینجمنٹ اور ہنگامی حالات میں ردِعمل شامل ہیں۔ EO-3 انہی قومی ضروریات کے مطابق ایک اہم قدم ہے۔
