پاکستان میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ بڑے اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا اچانک اور تیز بڑھ جانا تھا۔ حکومت نے اس فیصلے کو مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، توانائی سپلائی لائنز پر دباؤ، اور درآمدی لاگت میں اضافے سے جوڑا۔ وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ بین الاقوامی بحران کے باعث خام تیل اور خاص طور پر ڈیزل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کا اثر پاکستان پر بھی پڑا۔
2 اپریل 2026 کے اعلان کے تحت پیٹرول کی قیمت 458.41 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520.35 روپے فی لیٹر کر دی گئی۔ سرکاری مؤقف یہ تھا کہ حکومت کے لیے بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کا پورا بوجھ خود برداشت کرنا ممکن نہیں رہا، اس لیے مقامی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا۔
تاہم معاملہ صرف عالمی منڈی تک محدود نہیں تھا۔ حکومت نے ایک پالیسی تبدیلی بھی کی۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ blanket subsidy یعنی سب کے لیے یکساں سبسڈی کا ماڈل پائیدار نہیں رہا، اس لیے حکومت نے targeted subsidy یعنی ہدفی ریلیف کا راستہ اختیار کیا۔ اسی تناظر میں کم آمدن والے طبقوں، خصوصاً موٹرسائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور بعض چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کے لیے الگ ریلیف پر غور اور مشاورت کی گئی۔
حکومت نے قیمتوں میں اضافے کے ساتھ یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی کہ مکمل بوجھ عام آدمی پر نہیں ڈالا جائے گا۔ رپورٹوں کے مطابق موٹرسائیکل سواروں کے لیے ماہانہ محدود مقدار تک پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دینے کا اعلان کیا گیا، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور مال برداری شعبے کے لیے بھی ریلیف اقدامات زیرِ بحث آئے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ تو کیا، مگر ساتھ ہی سیاسی اور عوامی ردِعمل کو کم کرنے کی کوشش بھی کی۔
ایک اور اہم پہلو سپلائی سیکیورٹی تھا۔ 6 اپریل 2026 کو کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی صورتحال مستحکم ہے، ڈیزل کا ذخیرہ تقریباً 25 دن کے لیے موجود ہے، جبکہ خام تیل کے ذخائر تقریباً 12 دن کی کوریج رکھتے ہیں۔ اس جائزے سے یہ تاثر ملا کہ حکومت صرف قیمت بڑھانے پر نہیں، بلکہ ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور مارکیٹ نگرانی پر بھی توجہ دے رہی تھی۔
یوں اس فیصلے کی اصل وجہ اب کافی حد تک واضح ہے: عالمی تیل بحران نے درآمدی لاگت بڑھا دی، اور حکومت نے وسیع سبسڈی برقرار رکھنے کے بجائے قیمتوں کا بڑا حصہ صارفین تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسرے لفظوں میں، یہ اضافہ صرف ایک مالیاتی اقدام نہیں تھا بلکہ بین الاقوامی دباؤ، مقامی معاشی حقیقت، اور سبسڈی پالیسی میں تبدیلی—تینوں کا مجموعہ تھا۔
