امریکہ کی عدالتِ عظمیٰ آج، 27 اپریل 2026 کو، راؤنڈ اپ نامی جڑی بوٹی مار دوا سے متعلق ایک نہایت اہم مقدمے کی سماعت کرے گی۔ یہ مقدمہ اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ عدالت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وفاقی قانون ان ریاستی دعوؤں کو روک دیتا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ دوا کے استعمال سے کینسر کے خطرے کے بارے میں مناسب تنبیہ نہیں دی گئی۔ سپریم کورٹ کے سرکاری کیلنڈر کے مطابق اس مقدمے کی سماعت آج مقرر ہے۔ (supremecourt.gov)
مقدمے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر امریکی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے نے اس دوا کے لیبل کو کینسر سے متعلق تنبیہ کے بغیر منظور کیا تھا، تو کیا پھر بھی ریاستی عدالتوں میں یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ کمپنی نے صارفین کو مناسب خبردار نہیں کیا۔ مونسانٹو، جو اب بائر کی ملکیت ہے، مؤقف رکھتی ہے کہ وفاقی منظوری کے بعد ایسے دعوے قابلِ قبول نہیں ہونے چاہییں۔ دوسری جانب درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی منظوری کمپنی کو ہر قسم کی قانونی ذمہ داری سے بری نہیں کرتی۔ (scotusblog.com)
یہ مقدمہ صرف ایک قانونی بحث نہیں بلکہ بائر کے لیے بڑے مالی اور عوامی دباؤ کا معاملہ بھی بن چکا ہے۔ ہزاروں افراد نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ راؤنڈ اپ کے استعمال سے انہیں نان ہاجکن لِمفوما جیسے سرطان کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی لیے عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ نہ صرف اس ایک مقدمے بلکہ ایسے بے شمار دیگر مقدمات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
اس معاملے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب بائر نے حال ہی میں امریکہ میں راؤنڈ اپ سے متعلق ہزاروں سرطان کے دعووں کے تصفیے کے لیے 7.25 ارب ڈالر کے مجوزہ معاہدے کی حمایت کی۔ اطلاعات کے مطابق یہ تصفیہ ان بہت سے موجودہ اور آئندہ دعووں کا احاطہ کرتا ہے جو 17 فروری 2026 سے پہلے کے مبینہ استعمال سے جڑے ہوئے ہیں، تاہم اسے حتمی شکل دینے کے لیے عدالتی منظوری ابھی باقی ہے۔
اس مقدمے میں اصل کشمکش صرف دوا کے ممکنہ نقصانات پر نہیں، بلکہ اختیار کے سوال پر بھی ہے۔ عدالت کو دیکھنا ہے کہ آخری فیصلہ کن حیثیت وفاقی نگرانی کے اداروں کی ہے یا ریاستی عدالتوں کی۔ اگر عدالت مونسانٹو کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو اس سے مستقبل میں ایسے مقدمات دائر کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر درخواست گزاروں کا مؤقف تسلیم کر لیا جاتا ہے تو ریاستی سطح پر وارننگ نہ دینے سے متعلق دعوے برقرار رہیں گے۔
فی الحال تمام نظریں آج کی سماعت پر لگی ہوئی ہیں۔ توقع ہے کہ عدالتِ عظمیٰ اس مقدمے کا فیصلہ جون 2026 تک سنا دے گی۔ مگر آج ہونے والے دلائل ہی اس بات کے کافی اشارے دے دیں گے کہ عدالت وفاقی منظوری کو حتمی تحفظ سمجھتی ہے یا صارفین کے دعووں کے لیے راستہ کھلا رکھنا چاہتی ہے۔ جو بھی فیصلہ آئے، یہ مقدمہ راؤنڈ اپ کے خلاف جاری قانونی جنگ میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
