پاکستان میں پاسپورٹ سے متعلق سخت قواعد ایک بار پھر مؤثر ہو گئے ہیں، کیونکہ 27 اپریل 2026 کو فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے اس پہلے فیصلے کو معطل کر دیا جس نے حکومت کے پاسپورٹ inactivate کرنے اور طویل سفری پابندیاں لگانے کے اختیار کو محدود کر دیا تھا۔ اس تازہ عدالتی حکم کے بعد حکومت کو فی الحال وہ انتظامی اختیارات دوبارہ مل گئے ہیں جو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کمزور پڑ گئے تھے۔
اصل معاملہ دسمبر 2025 کے اس فیصلے سے شروع ہوا تھا جس میں لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ حکومت Passports Rules 2021 کے تحت ایسے اختیارات استعمال نہیں کر سکتی جو Passports Act, 1974 میں واضح طور پر موجود نہ ہوں۔ عدالت نے خاص طور پر شہریوں کے پاسپورٹ غیر فعال کرنے اور Passport Control List کے ذریعے پانچ سال یا اس سے زیادہ کی سفری پابندیوں پر اعتراض اٹھایا تھا۔
تاہم لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کے تمام اختیارات ختم نہیں کیے تھے۔ اس فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ حکومت قانون کے مطابق اب بھی پاسپورٹ منسوخ، ضبط یا تحویل میں لے سکتی ہے، بشرطیکہ متعلقہ قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔ یعنی تنازع اصل میں ان اضافی انتظامی اختیارات پر تھا جو قواعد کے ذریعے پیدا کیے گئے تھے، نہ کہ ہر قسم کی پاسپورٹ کارروائی پر۔
اب تازہ صورتحال یہ ہے کہ فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ نے اس فیصلے کو حتمی طور پر کالعدم نہیں کیا، بلکہ فی الحال معطل کیا ہے۔ قانونی لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اپیل کا فیصلہ آنے تک لاہور ہائی کورٹ کی دی گئی ریلیف رکی رہے گی اور حکومت پرانے انتظامی اختیارات استعمال کر سکے گی۔ عملی طور پر یہی وجہ ہے کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں پاسپورٹ قواعد “دوبارہ بحال” ہو گئے ہیں۔
رپورٹنگ کے مطابق یہ مقدمہ ایک ایسے شخص کے معاملے سے جڑا تھا جسے ایران سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا، اور اسی پس منظر میں پاسپورٹ inactivation اور سفری پابندیوں کی قانونی حیثیت دوبارہ عدالتی جانچ کے دائرے میں آئی۔ تازہ سماعت کے بعد معاملہ اب مزید تفصیلی قانونی بحث کے لیے آگے بڑھے گا۔
