سب سے پہلے اپنے قریبی اراضی ریکارڈ سینٹر (ARC) جائیں۔ عمل یہیں سے شروع ہوتا ہے، جہاں ٹوکن جاری کیا جاتا ہے اور آپ کا مقدمہ یا درخواست کھولی جاتی ہے۔
اس کے بعد جائیداد کی تفصیلات جمع کرائی جاتی ہیں اور فیس ادا کی جاتی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ فیس 950 روپے ہے، جو اراضی ریکارڈ سینٹر میں بینک آف پنجاب کاؤنٹر یا ای پے کے ذریعے ادا کی جا سکتی ہے۔
پھر شناخت کی تصدیق کی جاتی ہے۔ اس مرحلے میں آپ کا اصل شناختی کارڈ چیک کیا جاتا ہے، نادرا کے ذریعے بایومیٹرک تصدیق کی جاتی ہے، اور آپ کے موبائل نمبر اور ریکارڈ کی جانچ ہوتی ہے۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے عوامی پورٹل پر بھی شناختی کارڈ اور موبائل نمبر کی بنیاد پر رجسٹریشن اور تصدیق کا نظام موجود ہے۔
اس کے بعد ملکیت کی مکمل جانچ ہوتی ہے۔ حکام یہ دیکھتے ہیں کہ جائیداد قانونی طور پر رجسٹرڈ ہے یا نہیں، اور اس پر کوئی ٹیکس، رہن یا عدالتی تنازع تو موجود نہیں۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے مطابق یہ سرٹیفکیٹ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ جائیداد سرکاری ریکارڈ میں قانونی طور پر درج اور تسلیم شدہ ہے۔
پھر موقع پر سروے اور حدود کی جانچ کی جاتی ہے۔ ایک سروے کرنے والا اہلکار جائے وقوعہ پر جا کر زمین کی پیمائش کرتا ہے اور حدود کی تصدیق کرتا ہے۔
اس کے بعد ہمسایہ مالکان سے تصدیق لی جاتی ہے۔ ریکارڈ میں موجود دو پڑوسی مالکان آپ کی ملکیت یا قبضے کی تصدیق کرتے ہیں۔
پھر ریونیو عملہ تصدیق کرتا ہے۔ ایک مجاز ریونیو افسر یا گزٹڈ افسر سسٹم میں قبضے کی رپورٹ کی توثیق کرتا ہے۔
اس کے بعد 15 دن کا عوامی نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔ اگر اس مدت کے دوران کوئی اعتراض سامنے نہ آئے تو درخواست اگلے مرحلے میں چلی جاتی ہے۔
پھر حتمی منظوری دی جاتی ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ تمام کارروائی کا جائزہ لے کر، اگر معاملہ صاف ہو، تو سرٹیفکیٹ کی منظوری دے دیتا ہے۔
آخر میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے مطابق یہ سرٹیفکیٹ جائیداد کی ملکیت اور قانونی حیثیت کی تصدیق کرتا ہے۔
ساتھ لے جانے والی اہم چیزیں:
- اصل شناختی کارڈ
- رجسٹرڈ موبائل نمبر
- جائیداد کی بنیادی تفصیلات یا ملکیت سے متعلق کاغذات
- فیس کی ادائیگی کے لیے رقم
آپ ابتدا پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ صفحے اور عمومی لینڈ ریکارڈ سروسز پورٹل سے کر سکتے ہیں۔ یہ اتھارٹی اس سرٹیفکیٹ کو ملکیت اور قانونی حیثیت کا سرکاری ثبوت قرار دیتی ہے، اور اس کی خدمات پنجاب کے ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ نظام کے ذریعے دستیاب ہیں۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ تفصیلی دس نکاتی طریقہ کار اور 950 روپے فیس کی معلومات زیادہ واضح طور پر مقامی رپورٹنگ میں سامنے آئی ہیں، کیونکہ سرکاری ویب صفحہ جاوا اسکرپٹ پر مبنی ہونے کی وجہ سے تلاش کے نتائج میں مکمل مرحلہ وار تفصیل دکھا نہیں رہا۔ البتہ سرکاری پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے صفحات یہ ضرور تصدیق کرتے ہیں کہ یہ سرٹیفکیٹ موجود ہے اور اسے جاری کرنے والا ادارہ یہی ہے۔
