صحرائے موریطانیہ میں پھیلی ‘رچات سٹرکچر’، جسے دنیا ‘صحرائے سہارا کی آنکھ’ کے نام سے جانتی ہے، 25 میل پر محیط ہے۔ خلا سے دیکھنے پر یہ ریت میں کھدا ہوا ایک دیوہیکل ہدف معلوم ہوتی ہے۔ برسوں تک ماہرین کا خیال تھا کہ یہ کسی خلائی پتھر کے گرنے سے بننے والا گڑھا ہے، لیکن ناسا کی جدید سیٹلائٹ امیجنگ نے اس نظریے کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ کوئی شہابی گڑھا نہیں، بلکہ زمین کے اندر سے ابھرنے والا ایک ارضیاتی گنبد ہے۔ کروڑوں سال قبل، زمین کی تہوں کے نیچے موجود پگھلی ہوئی چٹانوں نے سطح کی طرف زور لگایا لیکن وہ باہر نہ نکل سکیں۔ اس دباؤ نے تہہ دار چٹانوں کو اوپر کی جانب دھکیل کر ایک گنبد کی شکل دے دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کٹاؤ کے عمل نے اس گنبد کی اوپری تہوں کو صاف کر دیا، جس سے وہ دائرہ نما حلقے نمودار ہوئے جو آج اس کی منفرد پہچان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ حلقے اتنے متناسب کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ اس کی وجہ چٹانوں کی مختلف اقسام ہیں۔ سخت کوارٹزائٹ چٹانیں ابھرے ہوئے کناروں کی صورت میں برقرار رہیں، جبکہ نرم چٹانیں کٹاؤ کے باعث وادیوں میں تبدیل ہو گئیں۔ یہی فرق خلا سے دیکھنے پر اسے ایک آنکھ جیسا تاثر دیتا ہے۔ ماہرینِ ارضیات اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ شہابیہ نہیں ہے۔ اس ساخت میں ‘شاکڈ کوارٹز’ یا ہائی پریشر سے بننے والے وہ معدنیاتی نشانات موجود نہیں جو کسی خلائی تصادم کے وقت پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ‘آنکھ’ دراصل ہوا اور پانی کے صدیوں پر محیط صبر آزما کام کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ یہ ساخت آج ایک خشک صحرا میں واقع ہے، لیکن قدیم موسمیاتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ خطہ کبھی سرسبز اور مرطوب تھا۔ اسی پانی نے اس ارضیاتی ڈھانچے کو تراش کر وہ پیچیدہ دائرے تشکیل دیے جو آج سائنسدانوں کے لیے تحقیق کا مرکز ہیں۔ محققین اب بھی اس آتش فشاں سرگرمی کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں جس نے اس گنبد کو اوپر کی جانب دھکیلا تھا۔ تاہم، اب یہ بات طے ہے کہ سہارا کی آنکھ آسمان سے گرے کسی پتھر کا زخم نہیں، بلکہ یہ زمین کی اندرونی قوت کا ایک نایاب مظہر ہے، جسے وقت کے مسلسل کٹاؤ نے عیاں کر دیا ہے۔
