ممبئی کی آزاد فلمی پروڈکشن کمپنی فرسٹ رے فلمز نے 2026 کے کانز فلم مارکیٹ کے لیے اپنی چھ فلموں پر مشتمل سلیٹ پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اداکار، پروڈیوسر اور فلم ساز انشومان جھا کی قائم کردہ یہ کمپنی اپنے دوسرے عشرے میں داخل ہو رہی ہے۔ بھارتی آزاد سنیما کے تناظر میں اسے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ کسی ایک فلم کے بجائے مکمل سلیٹ کے ساتھ عالمی فلمی منڈی میں جانا محض موجودگی نہیں، بلکہ توسیع کی سنجیدہ حکمت عملی کا اشارہ ہوتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس سلیٹ میں تین قریب المدت ریلیز شامل ہیں: “لارڈ کرزن کی حویلی”, “ہری کا اوم” اور “لکڑبگھا 2”۔ ان کے ساتھ تین نئے منصوبے بھی ترقی کے مراحل میں ہیں، جنہیں 2026 سے 2028 کے درمیان آگے بڑھایا جائے گا۔ کمپنی کی یہ پیشکش نہ صرف اس کے تخلیقی اعتماد کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ فرسٹ رے فلمز اب خود کو صرف ایک چھوٹی آزاد پروڈکشن کمپنی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک مستقل فلمی بینر کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔
“لارڈ کرزن کی حویلی” اس سلیٹ کا خاص عنوان ہے کیونکہ یہ انشومان جھا کی بطور ہدایت کار پہلی فلم ہے۔ اسے ایک بلیک کامیڈی تھرلر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ فلم کے بارے میں پہلے سے موجود تفصیلات بتاتی ہیں کہ یہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں ظاہری طور پر معمولی لگنے والا ماحول آہستہ آہستہ ایک زیادہ پیچیدہ اور تاریک رخ اختیار کرتا ہے۔ اس نوعیت کا بیانیہ فرسٹ رے فلمز کے اس رجحان سے میل کھاتا ہے جس میں وہ نسبتاً منفرد اور روایتی دھارے سے ہٹ کر موضوعات کا انتخاب کرتی رہی ہے۔
دوسری جانب “ہری کا اوم” جذباتی نوعیت کی فلم بتائی جا رہی ہے، جس کی ہدایت کاری ہریش ویاس نے کی ہے۔ یہ ایک باپ اور بیٹے کے تعلق پر مبنی ڈرامہ ہے۔ کہانی ایک ریٹائرڈ نجومی کے گرد گھومتی ہے جو صحت کے مسئلے کے بعد یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کے پاس بہت کم وقت باقی ہے، چنانچہ وہ اپنے الگ ہو چکے بیٹے سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ فلم کا یہ انسانی اور جذباتی پہلو اسے فرسٹ رے کی دوسری نسبتاً سخت اور جینر پر مبنی فلموں سے الگ شناخت دیتا ہے۔
اس سلیٹ میں شاید سب سے زیادہ تجارتی توجہ “لکڑبگھا 2: دی منکی بزنس” حاصل کرے۔ یہ فلم “لکڑبگھا” کا سیکوئل ہے اور اطلاعات کے مطابق اسے دیوالی 2026 کے موقع پر ریلیز کرنے کی تیاری ہے۔ اس منصوبے کی اہمیت صرف اتنی نہیں کہ یہ ایک کامیاب یا پہچانی گئی فلم کا دوسرا حصہ ہے، بلکہ اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ فرسٹ رے فلمز اب اپنے تخلیقی تجربات کے ساتھ ساتھ قابلِ توسیع فلمی برانڈز بھی تعمیر کرنا چاہتی ہے۔
کانز فلم مارکیٹ، جو دنیا کی بڑی فلمی منڈیوں میں شمار ہوتی ہے، فلموں کی فروخت، سرمایہ کاری، مشترکہ پروڈکشن اور عالمی شراکت داریوں کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم ہے۔ ایسے میں کسی بھارتی آزاد بینر کا چھ فلموں کے ساتھ وہاں جانا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنی نہ صرف اپنے موجودہ منصوبوں کے لیے خریداروں اور شراکت داروں کی تلاش میں ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنی پوزیشن بھی مضبوط کرنا چاہتی ہے۔
فرسٹ رے فلمز اس سے پہلے بھی ایسی فلموں سے وابستہ رہی ہے جو مرکزی دھارے کے محفوظ راستے سے کچھ ہٹ کر تھیں۔ کمپنی کے ساتھ “مونا ڈارلنگ”, “ہم بھی اکیلے، تم بھی اکیلے” اور “لکڑبگھا” جیسے عنوان جڑے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ اعلان کو صرف ایک تجارتی اپ ڈیٹ نہیں، بلکہ اس تخلیقی سفر کے اگلے مرحلے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
بھارتی فلمی صنعت کے وسیع تر تناظر میں بھی یہ قدم اہم ہے۔ حالیہ برسوں میں بین الاقوامی فلم بازاروں میں بھارتی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر آزاد سنیما، شریک پروڈکشنز اور عالمی فنڈنگ کے میدان میں۔ فرسٹ رے فلمز کی یہ پیش رفت اسی بدلتے ہوئے ماحول کا حصہ دکھائی دیتی ہے، جہاں نسبتاً چھوٹی کمپنیاں بھی صرف مقامی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اپنے لیے جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
فی الحال اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ کانز موجودگی عملی نتائج میں تبدیل ہو پاتی ہے یا نہیں — یعنی کیا کمپنی ان فلموں کے لیے بین الاقوامی تقسیم، سرمایہ کاری یا نئی شراکت داریوں کے معاہدے حاصل کر پائے گی۔ مگر ایک بات صاف ہے: فرسٹ رے فلمز اب صرف بقا کی کہانی نہیں سنانا چاہتی، بلکہ وہ خود کو ایک ایسی بھارتی آزاد فلمی قوت کے طور پر منوانا چاہتی ہے جس کے پاس واضح وژن بھی ہے، مواد بھی، اور آگے بڑھنے کی تیاری بھی۔
