کراچی کے علاقے منگھوپیر میں 16 اپریل 2026 کو نامعلوم مسلح موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید اور دوسرا زخمی ہوگیا۔
شہید ہونے والے کانسٹیبل کی شناخت خادم علی شاہ کے نام سے ہوئی، جبکہ محمد طفیل خان زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ حب کینال، یعنی مدرسہ والی کینال کے قریب پیش آیا جہاں پولیس اہلکار گشت پر تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ایک موٹرسائیکل پر سوار دو مشتبہ افراد کو رکنے کا اشارہ کیا۔ ملزمان نے رکنے کے بجائے فرار کی کوشش کی اور فائرنگ شروع کردی۔ ایک دوسری ابتدائی تشریح میں یہ بھی کہا گیا کہ حملہ آور غالباً ڈاکو تھے جنہوں نے گشت کرتی پولیس کو دیکھتے ہی فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔
فائرنگ کے نتیجے میں خادم علی شاہ شہید ہوگئے جبکہ محمد طفیل خان کو گولیوں کے زخم آئے اور انہیں علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔
وقوعے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے۔ جائے وقوعہ سے مختلف بور کے خول ملے، جن میں 9 ایم ایم اور 30 بور کے کارتوس بھی شامل تھے۔ ابتدائی مرحلے میں بعض تفصیلات میں معمولی فرق سامنے آیا کیونکہ تفتیش جاری تھی۔
واقعے کے محرکات پر ابتدا ہی سے سوال اٹھے۔ پولیس کے ابتدائی مؤقف میں دہشت گردی کے امکان کو کم اہمیت دی گئی اور اسے فرار ہونے والے جرائم پیشہ افراد کی کارروائی قرار دیا گیا۔ تاہم بعد میں ذمہ داری قبول کرنے کے ایک دعوے کے بعد مقدمہ قتل، اقدامِ قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیے جانے کی بات سامنے آئی۔ اس کے باوجود پولیس حکام نے اس دعوے کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھا۔
اس صورت حال نے واقعے کو عام جرائم اور ممکنہ شدت پسندی کے درمیان ایک پیچیدہ نوعیت دے دی، جو کراچی کے بعض علاقوں میں غیر معمولی بات نہیں۔
فی الحال مصدقہ صورتِ حال یہ ہے کہ گشت پر موجود پولیس ٹیم پر حملہ ہوا، ایک اہلکار شہید ہوا، دوسرا زخمی ہوا، اور حملہ آور فرار ہوگئے۔ آیا یہ واردات محض جرائم پیشہ عناصر کی فائرنگ تھی یا منظم دہشت گردی، اس کا فیصلہ اب تفتیش پر منحصر ہے۔
