علی الزیدی وہ نئی سیاسی شخصیت ہیں جنہیں عراق کے طاقتور شیعہ اتحاد نے کئی ہفتوں کی اندرونی کھینچا تانی کے بعد وزارتِ عظمیٰ کے لیے سامنے لایا ہے۔ 27 اپریل کو کوارڈی نیشن فریم ورک نے ان کا نام پیش کیا، جس کے بعد صدر نزار عمیدی نے انہیں حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق الزیدی ایک کاروباری شخصیت ہیں، اس سے پہلے کسی سیاسی عہدے پر فائز نہیں رہے، اور انہیں سابق وزیرِاعظم نوری المالکی کا نام واپس لینے کے بعد ایک سمجھوتہ امیدوار کے طور پر چنا گیا۔
ان کے پس منظر کی سب سے واضح اور مصدقہ تفصیل ان کا مالیاتی شعبے سے تعلق ہے۔ اے پی کے مطابق علی الزیدی الجنوب اسلامک بینک کے چیئرمین ہیں، اور اتحاد کی اندرونی مشاورت میں ان کی اہمیت اس وجہ سے بڑھی کہ ان کی شناخت ایک ایسے شخص کی ہے جو سرمایہ کاری اور کاروباری معاملات کو سمجھتا ہے۔ اسی لیے انہیں ایک روایتی جماعتی سیاست دان کے بجائے ایک معاشی اور تکنیکی پس منظر رکھنے والے امیدوار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کی نامزدگی خود عراق کے سیاسی تعطل کی کہانی بھی بیان کرتی ہے۔ کوارڈی نیشن فریم ورک، جو پارلیمان میں سب سے بڑا اتحاد ہے، ابتدا میں نوری المالکی کی حمایت کر رہا تھا، مگر اندرونی اختلافات اور بیرونی دباؤ کے باعث اس راستے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ ایسے میں علی الزیدی ایک ایسے امیدوار کے طور پر سامنے آئے جن پر مختلف دھڑوں نے کم از کم عارضی اتفاق کر لیا۔ دوسرے لفظوں میں، وہ ابتدا سے سب کے اولین انتخاب نہیں تھے، مگر آخرکار قابلِ قبول سمجھوتہ ضرور بن گئے۔
تاہم ان کی “غیر سیاسی” شبیہ کو مکمل غیرجانبداری یا نظام سے باہر ہونے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ وہ اگرچہ انتخابی سیاست یا وزارتی عہدوں سے وابستہ نہیں رہے، مگر انہیں آگے لانے والی قوتیں عراق کی وہی مضبوط سیاسی جماعتیں ہیں جو برسوں سے اقتدار کے مرکز میں رہی ہیں۔ بعض علاقائی رپورٹس میں ان کے بینکاری شعبے اور عراق کے پیچیدہ مالیاتی ماحول سے تعلق کو بھی توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا معاشی تجربہ ان کے لیے طاقت بھی بن سکتا ہے اور سوال بھی۔
اب اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ عراق کے آئینی طریقۂ کار کے مطابق سب سے بڑے پارلیمانی اتحاد کے نامزد امیدوار کو 30 دن کے اندر کابینہ تشکیل دے کر پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ لینا ہوتا ہے۔ اے پی کے مطابق علی الزیدی کو اپنی حکومت منظور کرانے کے لیے 167 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ یعنی نامزد وزیرِاعظم بن جانا آخری منزل نہیں، بلکہ صرف پہلا قدم ہے۔
تو آخر علی الزیدی ہیں کون؟ فی الحال سب سے محتاط اور درست جواب یہی ہے: وہ ایک بینکار اور کاروباری شخصیت ہیں جنہیں عراق کے طاقتور شیعہ اتحاد نے سیاسی تعطل کے دور میں ایک سمجھوتہ امیدوار کے طور پر آگے بڑھایا ہے۔ آیا وہ واقعی ایک مضبوط وزیرِاعظم ثابت ہوتے ہیں یا صرف عراق کی روایتی سیاسی سودے بازی کا ایک عارضی حل بنتے ہیں، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔
