متحدہ عرب امارات کے اوپیک چھوڑنے کے فیصلے نے عالمی تیل اتحاد میں ایک نئی دراڑ واضح کر دی ہے، اور یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تنظیم کی گرفت پہلے ہی ماضی کے مقابلے میں کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ 28 اپریل 2026 کو امارات نے اعلان کیا کہ وہ یکم مئی 2026 سے اوپیک سے الگ ہو جائے گا، یوں کئی دہائیوں پر محیط رکنیت کا خاتمہ ہو جائے گا اور تنظیم اپنے بڑے تیل پیدا کرنے والے ارکان میں سے ایک سے محروم ہو جائے گی۔
یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ امارات محض علامتی رکن نہیں تھا۔ وہ اوپیک کے بڑے پیداواری ممالک میں شامل ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ ان چند ممالک میں سے ایک ہے جن کے پاس اضافی پیداواری گنجائش موجود ہے۔ سادہ لفظوں میں، جب منڈی میں طلب بڑھے یا رسد تنگ ہو، تو امارات ان ملکوں میں شامل تھا جو واقعی پیداوار بڑھا سکتے تھے۔ ایسے رکن کا نکل جانا اوپیک کو صرف عددی لحاظ سے نہیں بلکہ عملی طور پر بھی کمزور کرتا ہے۔
یہ علیحدگی اچانک نہیں ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق ابو ظہبی کافی عرصے سے پیداواری کوٹوں پر ناخوش تھا، کیونکہ ان حدود کی وجہ سے وہ اپنی بڑھتی ہوئی صلاحیت کے باوجود نہ پوری پیداوار کر پا رہا تھا اور نہ ہی زیادہ مارکیٹ شیئر حاصل کر پا رہا تھا۔ امارات کا ہدف 2027 تک اپنی پیداواری صلاحیت تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ تک لے جانا ہے، اور یہ مقصد اوپیک کے اس نظام سے متصادم دکھائی دیتا تھا جو ارکان کو محدود پیداوار پر قائم رکھنا چاہتا ہے۔
اس فیصلے کے پیچھے ایک وسیع تر حکمتِ عملی بھی نظر آتی ہے۔ امارات صرف ایک روایتی تیل برآمد کنندہ ریاست کے طور پر نہیں رہنا چاہتا، بلکہ وہ خود کو توانائی، سرمایہ کاری اور علاقائی اثر و رسوخ کے بڑے مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں وہ عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق زیادہ آزادانہ فیصلہ سازی چاہتا ہے۔ توانائی کے عالمی منظرنامے میں تبدیلی، اور مستقبل میں فوسل فیول کی طلب سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال، تیل پیدا کرنے والے ملکوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ وہ اپنے ذخائر سے زیادہ سے زیادہ فائدہ جلد از جلد کیسے اٹھائیں۔
اوپیک کے لیے نقصان صرف معاشی نہیں، سیاسی بھی ہے۔ اس تنظیم کی بنیاد اجتماعی حکمتِ عملی پر رکھی گئی تھی، اور اس کی طاقت کا بڑا حصہ اس تصور سے آتا ہے کہ بڑے پیدا کرنے والے ممالک ایک پلیٹ فارم پر رہ کر مشترکہ فیصلے کر سکتے ہیں۔ جب ایک اہم رکن الگ ہو جائے تو یہ پیغام جاتا ہے کہ قومی مفاد اب مشترکہ نظم و ضبط پر غالب آ رہا ہے۔ موجودہ تجزیوں کے مطابق اس کا نتیجہ زیادہ بکھری ہوئی منڈی، قیمتوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ، اور اوپیک کی اجتماعی طاقت پر کم اعتماد کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
قلیل مدت میں تیل کی قیمتیں اب بھی وسیع تر جغرافیائی سیاسی عوامل سے متاثر ہو رہی ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے اردگرد کشیدگی اور رسد کے خدشات سے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ امارات کے نکلتے ہی عالمی تیل منڈی فوراً نئی شکل اختیار کر لے گی۔ مگر طویل مدت میں یہ قدم اوپیک کی ساکھ کو ضرور نقصان پہنچاتا ہے۔ کسی بھی کارٹیل کی اصل طاقت اسی میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے سب سے اہم ارکان کو ایک صف میں رکھ سکے، اور اس وقت یہی چیز مشکل دکھائی دے رہی ہے۔
اس صورتحال کو مزید اہم اس لیے بھی سمجھا جا رہا ہے کہ کچھ ہی عرصہ پہلے اوپیک کی سرکاری دستاویزات میں امارات کو ان ملکوں میں شامل دکھایا گیا تھا جو منڈی کے استحکام کے لیے رضاکارانہ پیداواری ایڈجسٹمنٹ پر کام کر رہے تھے۔ اب اچانک اسی اہم رکن کا تنظیم سے الگ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اندرونی ہم آہنگی بظاہر جتنی مضبوط دکھ رہی تھی، حقیقت میں اتنی نہیں تھی۔
اس لیے یہ کہنا بے جا نہیں کہ امارات کی علیحدگی سے اوپیک کا اثر و رسوخ مزید کمزور ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اوپیک فوراً غیر مؤثر ہو جائے گا، یا سعودی عرب کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ مگر یہ ضرور ہے کہ تنظیم نے ایک ایسا امیر، کم لاگت، اور توسیع کی صلاحیت رکھنے والا رکن کھو دیا ہے جو مستقبل میں بھی بہت وزن رکھتا تھا۔ عالمی منڈیاں ایسے فیصلوں کو جلد نہیں بھولتیں۔
