اوپیک پلس آج اپنی پیداوار سے متعلق ایسا فیصلہ کرنے جا رہا ہے جس پر غیر معمولی نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ یہ اجلاس متحدہ عرب امارات کے باضابطہ اخراج کے بعد پہلا اہم مرحلہ ہے۔ اوپیک کے مطابق آٹھ ممالک پر مشتمل وہ گروپ، جو رضاکارانہ کٹوتیوں اور ان کی واپسی کے عمل کو سنبھال رہا ہے، 3 مئی 2026 کو مارکیٹ کی صورتحال، تعمیل اور اضافی پیداوار کے ازالہ منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے مل رہا ہے۔
اس اجلاس کا اصل مرکز جون کے لیے ممکنہ پیداوار اضافہ ہے۔ اوپیک نے 1 مارچ 2026 کے فیصلے میں کہا تھا کہ آٹھ ممالک اپریل سے مرحلہ وار رضاکارانہ کٹوتیوں میں نرمی شروع کریں گے، اور اسی سلسلے میں اپریل کے لیے 206,000 بیرل یومیہ اضافہ طے کیا گیا تھا۔ 5 اپریل کے بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ ممالک ہر ماہ اجلاس کریں گے، اور ضرورت پڑنے پر اضافہ روکنے یا واپس لینے کا اختیار بھی برقرار رہے گا۔
اسی پس منظر میں آج کا اجلاس معمول کا تکنیکی اجلاس نہیں لگ رہا۔ متحدہ عرب امارات کا اخراج اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ اتحاد کے بڑے پیداواری ممالک میں شامل تھا اور ماضی میں اپنے پیداواری کوٹے کے بارے میں زیادہ لچک چاہتا رہا ہے۔ سرکاری اماراتی مؤقف کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی طویل مدتی تزویراتی اور اقتصادی ترجیحات کے تحت کیا گیا، اور اس کا اطلاق یکم مئی 2026 سے ہو گیا۔
مارکیٹ کے لیے مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ جون میں کتنے بیرل بڑھیں گے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا اوپیک پلس متحدہ عرب امارات کے بغیر بھی پہلے جیسا نظم و ضبط برقرار رکھ سکتا ہے یا نہیں۔ اگر گروپ ایک متوازن اور متفقہ فیصلہ دے دیتا ہے تو یہ پیغام جائے گا کہ اتحاد ابھی بھی کام کر رہا ہے۔ لیکن اگر اندرونی اختلافات نمایاں ہوئے تو تیل کی منڈی اسے کمزور ہم آہنگی کی علامت سمجھے گی۔ یہ خدشہ اس لیے بھی بڑھا ہوا ہے کہ حالیہ مہینوں میں کئی ممالک کی تعمیل، کوٹہ سے تجاوز، اور بعد میں “کمپنسیشن پلان” جمع کرانے کے معاملات بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔ اوپیک کے ریکارڈ کے مطابق عراق، متحدہ عرب امارات، قازقستان اور عمان نے اپریل 2026 میں ایسے منصوبے جمع کرائے تھے۔
اس وقت عالمی تیل منڈی صرف کوٹہ پالیسی سے نہیں چل رہی، بلکہ خطے کی جغرافیائی کشیدگی بھی قیمتوں کو متاثر کر رہی ہے۔ اوپیک کے 5 اپریل کے بیان میں کہا گیا تھا کہ بعض ممالک نے متبادل برآمدی راستے استعمال کر کے سپلائی کی دستیابی برقرار رکھی، جس سے منڈی میں اتار چڑھاؤ کم کرنے میں مدد ملی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تنظیم خود بھی تسلیم کر رہی ہے کہ پیداوار کے فیصلے اب خالص معاشی نہیں رہے، ان پر خطے کی سکیورٹی صورتحال کا اثر بھی گہرا ہے۔
اوپیک کی اپریل 2026 ماہانہ آئل مارکیٹ رپورٹ بھی یہ دکھاتی ہے کہ قیمتوں میں نمایاں حرکت آ چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارچ میں اوپیک ریفرنس باسکٹ کی اوسط قیمت 116.36 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ برینٹ کی اوسط 99.60 ڈالر فی بیرل تک پہنچی۔ یہ اعداد اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ منڈی پہلے ہی حساس مرحلے میں ہے، لہٰذا اوپیک پلس شاید بہت بڑا اضافہ کرنے کے بجائے محتاط قدم اٹھانا چاہے گا۔
غالب امکان یہی سمجھا جا رہا ہے کہ اگر پیداوار بڑھانے کا فیصلہ ہوتا بھی ہے تو وہ محدود اور تدریجی ہوگا۔ اس کا مقصد ایک طرف منڈی کو اضافی سپلائی کا اشارہ دینا ہوگا، اور دوسری طرف یہ باور کرانا بھی کہ اوپیک پلس اب بھی قیمتوں کے مکمل بگاڑ سے بچنا چاہتا ہے۔ سادہ لفظوں میں، آج کے اجلاس میں اصل سوال صرف بیرلوں کی تعداد نہیں، اختیار اور اتحاد کا تاثر بھی ہے۔
اس اجلاس کے بعد واضح ہو جائے گا کہ متحدہ عرب امارات کے اخراج نے اوپیک پلس کو صرف علامتی دھچکا دیا ہے یا واقعی اس کے اندرونی توازن کو بدل دیا ہے۔ ابھی کے لیے تیل کی منڈی اسی جواب کا انتظار کر رہی ہے۔
