سری لنکا کی پولیس نے کولمبو کے نواحی علاقے تلنگاما میں ایک مکان پر چھاپہ مار کر 37 چینی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ جگہ مبینہ طور پر آن لائن دھوکا دہی یا سائبر فراڈ کے ایک مرکز کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔ پولیس نے کارروائی کے دوران 35 ٹیبلیٹس، 147 موبائل فون اور 100 سم کارڈ بھی قبضے میں لیے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ کارروائی ہفتے کے روز کی گئی، جبکہ اس کی تفصیلات اتوار کو سامنے آئیں۔ ابھی تک حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ گرفتار افراد کس نوعیت کے فراڈ میں ملوث تھے، تاہم برآمد ہونے والے آلات کی بڑی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ کسی انفرادی جرم کا نہیں بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کا ہو سکتا ہے۔
یہ واقعہ سری لنکا میں حالیہ ہفتوں کے دوران غیر ملکیوں سے جڑے مبینہ سائبر فراڈ نیٹ ورکس کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ گزشتہ ماہ ساحلی شہر چلاؤ میں ایک ہوٹل پر چھاپے کے دوران 152 غیر ملکیوں کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں اکثریت چینی شہریوں کی تھی۔ پولیس نے اس وقت کہا تھا کہ جو افراد براہِ راست دھوکا دہی میں ملوث پائے گئے، ان کے خلاف سری لنکا کے قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی، جبکہ دیگر کے بارے میں تحقیقات کے بعد فیصلہ ہوگا کہ انہیں ملک بدر کیا جائے یا نہیں۔
اس سے پہلے مارچ میں انورادھاپورا اور مہنتالے کے علاقوں میں بھی ایک مشترکہ کارروائی میں 134 غیر ملکی گرفتار کیے گئے تھے۔ مقامی رپورٹوں کے مطابق ان میں 126 چینی شہری، جبکہ چند افراد میانمار اور تائیوان سے تعلق رکھتے تھے۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ لوگ مختلف گیسٹ ہاؤسز سے ایک مبینہ آن لائن فراڈ نیٹ ورک چلا رہے تھے۔
اپریل کے وسط میں سری لنکا کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھی نو چینی شہری گرفتار کیے گئے تھے، جن پر الزام تھا کہ وہ ایسے مواصلاتی آلات ملک میں لانے کی کوشش کر رہے تھے جو مبینہ طور پر سائبر فراڈ سرگرمیوں میں استعمال ہو سکتے تھے۔ اس واقعے کے بعد کولمبو میں چینی سفارت خانے نے کہا تھا کہ وہ سری لنکن حکام کے ساتھ تعاون کر رہا ہے تاکہ چینی شہریوں کو اس قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں سے روکا جا سکے۔
جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں حالیہ برسوں کے دوران سائبر فراڈ مراکز، جعلی کال سینٹرز اور سرحد پار جرائم پیشہ نیٹ ورکس ایک بڑا مسئلہ بن کر ابھرے ہیں۔ یہ گروہ عموماً موبائل فون، سم کارڈز، میسجنگ ایپس اور کرائے کی عمارتوں کے ذریعے اپنے نیٹ ورک چلاتے ہیں۔ سری لنکا میں سامنے آنے والے حالیہ مقدمات اگرچہ خطے کے بعض دوسرے بڑے اسکینڈلز جتنے وسیع نہیں، لیکن پولیس کارروائیوں کی رفتار ظاہر کرتی ہے کہ حکام اب اس مسئلے کو زیادہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
فی الحال اصل سوال یہ ہیں کہ تلنگاما میں گرفتار افراد پر باقاعدہ کیا الزامات عائد کیے جائیں گے، ان کے ممکنہ متاثرین کون تھے، اور آیا ان پر سری لنکا میں مقدمہ چلایا جائے گا یا تحقیقات مکمل ہونے کے بعد انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔ اس مرحلے پر پولیس نے ان سوالات کے مکمل جواب نہیں دیے، لیکن حالیہ چھاپوں سے ایک بات واضح ہے: سری لنکا اب خود کو غیر ملکی سائبر جرائم پیشہ گروہوں کے لیے آسان پناہ گاہ کے طور پر پیش نہیں ہونے دینا چاہتا۔
