لکی مروت میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پولیس کانسٹیبل کو اس وقت فائرنگ کر کے قتل کر دیا جب وہ پولیس لائنز سے اپنے گھر جا رہا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق واقعہ بلخی کورونہ کے قریب، پشاور۔کراچی شاہراہ کے بائی پاس حصے پر، غزنخیل تھانے کی حدود میں پیش آیا۔ مقتول کی شناخت کانسٹیبل حبیب الرحمان کے نام سے ہوئی۔
پولیس کے مطابق حملہ اچانک کیا گیا اور مسلح حملہ آور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔ ابتدائی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ کانسٹیبل حبیب الرحمان پر اس وقت گھات لگا کر حملہ کیا گیا جب وہ ڈیوٹی کے بعد گھر واپس جا رہے تھے۔
یہ واقعہ محض ایک الگ تھلگ واردات نہیں لگتا۔ لکی مروت اور جنوبی خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث علاقے میں پہلے ہی خوف اور بے یقینی کی فضا موجود ہے۔ اسی ضلع میں مارچ 2026 میں پولیس کی ایک گاڑی کو دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں سات اہلکار، جن میں ایک ایس ایچ او بھی شامل تھا، جاں بحق ہوئے تھے۔
اس تازہ حملے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا پولیس اہلکار اب ڈیوٹی کے دوران ہی نہیں بلکہ اپنے معمول کے سفر میں بھی محفوظ نہیں رہے۔ لکی مروت میں حالیہ مہینوں کے دوران پیش آنے والے واقعات سے یہی تاثر مضبوط ہوا ہے کہ حملہ آور پولیس کو نرم ہدف سمجھ کر نشانہ بنا رہے ہیں۔
تاحال اس حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی، اور جن رپورٹوں کی میں نے تصدیق کی ان میں فوری گرفتاریوں کی بھی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ تاہم مقامی پولیس نے واقعے کے بعد تحقیقات شروع کرنے اور علاقے میں سرچ کارروائی تیز کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
