وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کے نرخوں میں حالیہ کمی کو ایک عارضی ریلیف کے بجائے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا اصل ہدف بجلی کے ٹیرف میں پائیدار استحکام، ترسیلی نظام کی بہتری اور بجلی چوری کے خلاف سخت کارروائی ہے۔ یہ ہدایات ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں دی گئیں، جہاں انٹیگریٹڈ جنریشن کیپیسٹی ایکسپنشن پلان (IGCEP) 2024–2034 کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد اب ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے صارفین کو طویل مدت تک ریلیف مل سکے۔
حکومت نے اس سے قبل اپریل 2025 میں بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کا اعلان کیا تھا۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے تقریباً 7.41 روپے فی یونٹ کمی کی گئی، جبکہ تجارتی اور صنعتی شعبے کو بھی ریلیف دیا گیا۔ حکومت اس کمی کو اپنی وسیع پاور سیکٹر اصلاحات کا حصہ قرار دیتی رہی ہے، نہ کہ محض ایک وقتی انتظام۔
تازہ اجلاس میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ صرف نرخ کم کرنا کافی نہیں ہوگا، جب تک بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے پورے نظام میں موجود کمزوریاں دور نہ کی جائیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے گرڈ نظام میں بہتری، ترسیلی استعداد بڑھانے اور لائن لاسز کم کرنے پر زور دیا۔ ساتھ ہی بجلی چوری کے خلاف جاری کارروائی مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی دی گئی، کیونکہ حکومتی مؤقف کے مطابق یہی عوامل گردشی قرضے اور مالی دباؤ میں بڑے حصے دار رہے ہیں۔
اجلاس میں زیرِ غور IGCEP 2024–2034 منصوبہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ متعلقہ رپورٹوں کے مطابق حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نظرثانی شدہ منصوبے کے ذریعے مہنگے بجلی منصوبوں کو نکال کر یا مؤخر کر کے تقریباً 4.743 کھرب روپے، یعنی لگ بھگ 17 ارب ڈالر، کی بچت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اس منصوبے میں کم لاگت بنیادوں پر مستقبل کی پیداواری صلاحیت کے انتخاب اور توسیع پر زور دیا گیا ہے۔
رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ نئے منصوبے کے تحت تقریباً 8 ہزار میگاواٹ کے نسبتاً مہنگے منصوبوں کو محدود یا خارج کیا گیا ہے تاکہ نظام پر مالی بوجھ کم ہو اور صارفین پر قیمتوں کا دباؤ نہ بڑھے۔ حکومت اسے ایک ایسی پالیسی تبدیلی کے طور پر پیش کر رہی ہے جس کا مقصد صرف بجلی پیدا کرنا نہیں، بلکہ مناسب لاگت پر بجلی پیدا کرنا اور اسے مؤثر انداز میں نظام تک پہنچانا ہے۔
وزیراعظم کے اس مؤقف کو حکومت کے دیگر حالیہ بیانات سے بھی تقویت ملتی ہے۔ بعض رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ پاور سیکٹر میں معاہدوں پر نظرثانی، وصولیوں میں بہتری، اور مسابقتی ڈھانچے کی جانب پیش رفت جیسے اقدامات کے ذریعے مزید بچت اور نظامی بہتری متوقع ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر یہ اصلاحات عملی شکل اختیار کر گئیں تو بجلی کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کم ہو سکتا ہے اور مجموعی شعبہ زیادہ پائیدار بن سکتا ہے۔
تاہم اصل چیلنج عملدرآمد رہے گا۔ پاکستان میں ماضی میں بھی بجلی کے شعبے میں متعدد اصلاحات کا اعلان کیا جاتا رہا ہے، مگر کمزور ترسیلی ڈھانچہ، ناقص وصولیاں، بجلی چوری اور گردشی قرضہ جیسے مسائل بار بار راستہ روکتے رہے۔ اسی لیے موجودہ ہدایات میں گرڈ اصلاحات اور بجلی چوری کے خلاف سخت کارروائی کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
صارفین کے لیے اس پوری مشق کا مطلب سادہ ہے: اگر حکومت اپنے اعلانات پر مؤثر عمل کر سکی تو نہ صرف بجلی کے بلوں میں اچانک اضافے کا دباؤ کم ہو سکتا ہے، بلکہ ایک ایسا نظام بھی بن سکتا ہے جو کم ضیاع، بہتر ترسیل اور نسبتاً مستحکم نرخوں پر چل سکے۔ فی الحال شہباز شریف نے سیاسی اور انتظامی سطح پر یہ اشارہ دے دیا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں استحکام اب محض وعدہ نہیں، بلکہ اسے وسیع پاور سیکٹر ری سیٹ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
