واشنگٹن اور اسلام آباد کے مابین مجوزہ سکیورٹی فریم ورک ایک سنگین بحران کی زد میں ہے۔ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں شدت پسند حملوں کی لہر نے ان سفارتی کوششوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ سٹریٹجک شراکت داری، جس کا مقصد علاقائی استحکام تھا، اب زمینی حقائق — خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بڑھتے ہوئے حملوں اور افغان طالبان کے سخت رویے — کے سائے میں دبتی جا رہی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے لیے یہ معاہدہ خطے میں انسدادِ دہشت گردی کے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کا ایک آزمودہ حربہ ہے۔ 2021 میں انخلا کے بعد سے امریکہ کی خطے میں موجودگی کم ہوئی ہے، اور اب وہ پاکستان کی داخلی سکیورٹی کو مضبوط کر کے بین الاقوامی دہشت گردی کے سیلز کے دوبارہ ابھرنے کو روکنا چاہتا ہے۔ تاہم، اس منصوبے کی کامیابی ایک مستحکم شراکت دار پر منحصر ہے، اور اس وقت پاکستان خود ایک ایسی داخلی شورش سے نبرد آزما ہے جس میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ خطرات فوری نوعیت کے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران خیبر پختونخوا میں فوجی چوکیوں پر حملوں میں تیزی آئی ہے، جس میں درجنوں سکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ یہ محض چھٹ پٹ کارروائیاں نہیں، بلکہ منظم اور تکنیکی حملے ہیں جنہوں نے پاکستان کے موجودہ سکیورٹی ڈھانچے کی حدود کو آشکار کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں پالیسی سازوں کی ایک بڑی تعداد اب ایک تلخ حقیقت تسلیم کر رہی ہے: اگر پاکستان اپنے سرحدی علاقوں کو محفوظ نہیں بنا سکتا، تو امریکہ کی طویل مدتی فوجی تعاون کی دلچسپی ختم ہو جائے گی۔ مذاکرات سے واقف ایک سابق امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "سکیورٹی کا منظرنامہ اب قابو سے باہر ہو رہا ہے۔ آپ ریت کے ٹیلوں پر بنیاد نہیں رکھ سکتے۔ اگر تشدد کی یہ شرح برقرار رہی، تو وائٹ ہاؤس کے لیے اس شراکت داری کی سیاسی قیمت ادا کرنا ناممکن ہو جائے گا۔” پاکستان کی وزارتِ خزانہ بھی صورتحال کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ ملکی معیشت کو بین الاقوامی تعاون اور استحکام کی اشد ضرورت ہے، مگر داخلی سکیورٹی آپریشنز کے اخراجات قومی بجٹ پر بوجھ بن چکے ہیں۔ اسلام آباد ایک ایسے دائرے میں پھنسا ہے جہاں اسے استحکام کے لیے امریکہ کی ضرورت ہے، جبکہ سرحدی علاقوں کی کشیدگی امریکہ کو اس معاہدے کے دائرہ کار پر نظر ثانی پر مجبور کر رہی ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کو روکنے سے انکار — اور اس مؤقف کا اعادہ کہ یہ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے — نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے کہ کابل حکومت کوئی بفر کردار ادا کرے گی۔ یہ صورتحال اسلام آباد کو انٹیلی جنس اور تکنیکی مدد کے لیے واشنگٹن کی طرف دیکھنے پر مجبور کر رہی ہے، جبکہ امریکہ خود کسی مقامی تنازع میں الجھنے سے گریزاں ہے۔ مذاکرات کا اگلا دور قریب ہے، مگر دونوں فریقین کے درمیان خلیج واضح ہے۔ ایک ایسا نقشہ جس پر ایک سال قبل کام شروع کیا گیا تھا، اب مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ معاہدہ شاید دستخط ہو بھی جائے، لیکن اگر عسکریت پسندوں نے سرحدی علاقوں میں اپنی کارروائیوں کی رفتار برقرار رکھی، تو یہ معاہدہ کاغذ کے ایک بے اثر ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔
