کراچی میں گرمی کی شدت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، اور حالیہ موسمی اطلاعات کے مطابق شہر میں مئی کے دوران ایک سے زیادہ ہیٹ ویوز آ سکتی ہیں، جبکہ 7 مئی کے آس پاس ایک اور شدید گرم لہر کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ پاکستان محکمۂ موسمیات سے منسلک رپورٹوں کے مطابق کراچی اور سندھ کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت پہلے ہی خطرناک حد تک بلند رہا ہے، اور حالیہ دنوں میں یہ 40 سے 41 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے اوپر جانے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
اہم بات یہ ہے کہ اس انتباہ کو صرف ایک دن کی پیش گوئی کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل پیٹرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹنگ کے مطابق کراچی میں مئی کے دوران دو سے تین ہیٹ ویوز آ سکتی ہیں، یعنی شہر کو بار بار شدید گرمی کی لہروں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے “خاتمہ دکھائی نہیں دے رہا” والا تاثر مضبوط ہوتا ہے، کیونکہ مسئلہ صرف ایک وقتی گرم دن کا نہیں بلکہ وقفے وقفے سے لوٹنے والی شدید گرمی کا ہے۔
البتہ 7 مئی کی تاریخ کو احتیاط سے برتنا چاہیے۔ مضبوط تر دستیاب مواد زیادہ تر مئی کے پہلے ہفتے اور مجموعی طور پر بار بار آنے والی ہیٹ ویوز کی بات کرتا ہے، جبکہ بعض رپورٹیں اس خطرے کو خاص طور پر 7 مئی کے آس پاس ایک نئی گرم لہر سے جوڑتی ہیں۔ اس لیے زیادہ محتاط انداز یہی ہے کہ کراچی کو اس تاریخ کے قریب ایک اور شدید گرم دور کا سامنا ہو سکتا ہے، نہ کہ یہ کہا جائے کہ صرف 7 مئی کے لیے ایک الگ حتمی انتباہ جاری ہو چکا ہے۔
شہریوں کے لیے عملی پیغام وہی ہے: دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں، پانی زیادہ پئیں، دھوپ میں کام کم سے کم کریں، اور جسم میں تھکن، چکر، متلی یا پانی کی کمی کی علامات کو معمولی نہ سمجھیں۔ کراچی میں شدید گرمی صرف موسم کی خبر نہیں رہتی بلکہ بہت جلد صحت، روزگار، بجلی کے استعمال اور روزمرہ زندگی پر اثر ڈالنے لگتی ہے۔
