پاکستان کے مسابقتی نگران ادارے، کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی)، نے نشاط گروپ سے منسلک کنسورشیم کو رفحان میز پروڈکٹس کمپنی لمیٹڈ میں حصص اور کنٹرول کے حصول کی منظوری دے دی ہے۔ کمیشن نے فیز-ون جائزے کے بعد قرار دیا کہ اس لین دین سے مسابقت میں ایسی کمی متوقع نہیں جو مارکیٹ کے لیے نقصان دہ ہو۔
منظور شدہ خریدار صرف ایک کمپنی نہیں بلکہ کئی نشاط سے وابستہ اداروں اور خاندان کے افراد پر مشتمل ایک کنسورشیم ہے۔ اس میں نشاط ہوٹلز اینڈ پراپرٹیز، ڈی جی خان سیمنٹ، نشاط ملز، نشاط پاور، نشاط چونیاں پاور، لال پیر پاور، پاک جن پاور کے ساتھ ناز منشا، رضا منشا، عمر منشا اور حسن منشا شامل ہیں۔ متعلقہ پبلک آفر دستاویزات میں یہی فریق خریدار کے طور پر درج ہیں۔
سی سی پی کے جائزے میں خاص طور پر رفحان کے مکئی سے تیار ہونے والی مصنوعات کے کاروبار اور نشاط ملز کی ٹیکسٹائل سرگرمیوں کے درمیان عمودی تعلق کو دیکھا گیا۔ کمیشن نے نوٹ کیا کہ نشاط ملز اپنے پیداواری عمل میں اسٹارچ استعمال کرتی ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مقامی سطح پر دیگر سپلائرز موجود ہیں اور درآمدات بھی ممکن ہیں، اس لیے اس سودے کے نتیجے میں مارکیٹ پر ایسا دباؤ بننے کا امکان کم ہے جو مسابقت کو نمایاں طور پر متاثر کرے۔
یہ منظوری ایک طویل اور کئی مرحلوں پر مشتمل عمل کے بعد سامنے آئی ہے۔ مئی 2025 میں نشاط ہوٹلز اینڈ پراپرٹیز نے رفحان میز کے 69 لاکھ 91 ہزار 52 حصص، یعنی تقریباً 75.69 فیصد سرمایہ، حاصل کرنے کے ارادے کا ابتدائی اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں یہ راستہ 10 فروری 2026 سے واپس لے لیا گیا کیونکہ مقررہ مدت تک تمام ریگولیٹری منظوریوں اور دیگر شرائط کی تکمیل نہیں ہو سکی تھی۔
اس کے بعد لین دین کا ڈھانچہ تبدیل کیا گیا۔ فروری 2026 میں نشاط کی قیادت میں قائم کنسورشیم نے رفحان میز کے تقریباً 75.10 فیصد حصص اور کمپنی کے کنٹرول کے حصول کے لیے نیا ارادہ ظاہر کیا۔ پھر 27 مارچ 2026 کو 2 لاکھ 98 ہزار 759 عام حصص، یعنی تقریباً 3.23 فیصد سرمایہ، کے لیے عوامی پیشکش کا اعلان کیا گیا۔ اس پیشکش کی قیمت 9,800 روپے فی حصص رکھی گئی، جبکہ قبولیت کی مدت 14 مئی سے 20 مئی 2026 مقرر کی گئی۔
اس پورے سودے کے پس منظر میں امریکی کمپنی انگریڈیئن کا بڑا حصص فروخت کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق انگریڈیئن نے 25 ستمبر 2025 کو رفحان میز میں 51 فیصد ملکیتی حصہ نشاط گروپ کو فروخت کرنے کے لیے حتمی معاہدہ کیا تھا۔ کمپنی نے یہ بھی کہا تھا کہ تمام شرائط پوری ہونے کے بعد وہ رفحان میں 20 فیصد حصہ اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
رفحان میز پاکستان کی غذائی اور صنعتی سپلائی چین میں اہم مقام رکھتی ہے اور اسٹارچ، لیکوئیڈ گلوکوز، ڈیکسٹروز، ڈیکسٹرن اور دیگر مکئی سے تیار ہونے والی مصنوعات بناتی ہے۔ اسی لیے اس سودے کو صرف ایک معمول کا شیئر ٹرانزیکشن نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ اسے صنعتی شعبے میں بڑے اسٹریٹجک قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سی سی پی کی منظوری کے بعد اب یہ معاملہ عملی تکمیل کے مزید قریب آ گیا ہے، اگرچہ دیگر کارپوریٹ اور ریگولیٹری مراحل ابھی باقی رہ سکتے ہیں۔
