لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے گلوکارہ میشا شفیع کو علی ظفر ہتکِ عزت کیس میں جزوی ریلیف دیتے ہوئے سیشن عدالت کے اس فیصلے کو مشروط طور پر معطل کر دیا ہے جس میں انہیں گلوکار و اداکار علی ظفر کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
یہ حکم پیر، 4 مئی 2026 کو میشا شفیع کی جانب سے سیشن عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا۔ عدالتِ عالیہ نے ہرجانے کی ادائیگی کا حکم صرف ادائیگی کی حد تک معطل کیا، جس کا مطلب ہے کہ 50 لاکھ روپے کی فوری وصولی فی الحال روک دی گئی ہے، تاہم یہ ریلیف بعض شرائط سے مشروط ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے میشا شفیع کو ہدایت کی ہے کہ وہ 25 لاکھ روپے نقد عدالت میں جمع کرائیں جبکہ باقی 25 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرائے جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہرجانے کی رقم مستقل طور پر ختم نہیں کی گئی بلکہ اپیل کے حتمی فیصلے تک اس کی ادائیگی روک دی گئی ہے۔
تاہم عدالت نے سیشن عدالت کا پورا فیصلہ معطل نہیں کیا۔ میشا شفیع پر علی ظفر کے خلاف ہراسانی کے الزامات دوبارہ دہرانے سے متعلق پابندی بدستور برقرار رہے گی۔ یہ پابندی اپیل کی سماعت کے دوران بھی نافذ رہے گی۔
یہ قانونی تنازع 2018 سے جاری ہے، جب میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ علی ظفر نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسی سال میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ علی ظفر کا مؤقف تھا کہ ان الزامات سے ان کی ساکھ، کیریئر اور عوامی حیثیت کو نقصان پہنچا۔
بعد ازاں 31 مارچ 2026 کو لاہور کی سیشن عدالت نے علی ظفر کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے انہیں علی ظفر کے خلاف الزامات دہرانے سے بھی روک دیا تھا۔
میشا شفیع نے سیشن عدالت کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اپنی اپیل میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سیشن عدالت کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔ ان کے وکلا کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ متعلقہ ہراسانی کی کارروائی ابھی سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے، اس لیے ہتکِ عزت کیس کا فیصلہ قبل از وقت ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کا تازہ حکم اپیل پر حتمی فیصلہ نہیں بلکہ ایک جزوی اور مشروط ریلیف ہے۔ عدالت نے صرف ہرجانے کی رقم کی فوری ادائیگی کو مخصوص شرائط کے تحت معطل کیا ہے، جبکہ سیشن عدالت کے فیصلے کے دیگر حصے فی الحال برقرار ہیں۔
