پاکستانی فلم انڈسٹری میں ہارر اور زومبی طرز کی کہانیوں پر کم کام ہوا ہے، اسی لیے فہد مصطفیٰ اور مہوش حیات کی نئی فلم ‘زومبید’ کا پہلا پوسٹر اور ٹیزر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر گئے۔ فلم کو عیدالاضحیٰ 2026 پر ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ اس کی ہدایت کاری نبیل قریشی نے کی ہے اور پروڈکشن فلم والا پکچرز کے بینر تلے کی جا رہی ہے۔
ابتدائی ٹیزر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ‘زومبید’ ایک ایسی دنیا دکھاتی ہے جہاں خوف، افراتفری اور بقا کی جنگ مرکزی موضوع ہیں۔ ویژولز میں زخمی چہرے، سنسان ماحول، بھاگتے لوگ اور حملہ آور زومبی نما مخلوق دکھائی گئی ہے، جس سے صاف لگتا ہے کہ فلم روایتی رومانوی یا ہلکی پھلکی پاکستانی کمرشل فلموں سے مختلف رخ اختیار کر رہی ہے۔
فہد مصطفیٰ، جو عام طور پر بڑے پردے پر توانائی سے بھرپور اور عوامی پسند کے کرداروں کے لیے جانے جاتے ہیں، اس بار ایک نسبتاً تاریک اور خطرناک دنیا میں نظر آ رہے ہیں۔ دوسری جانب مہوش حیات بھی ایک ایسے کردار میں دکھائی دے رہی ہیں جو محض جلوہ گری نہیں بلکہ خطرے، مزاحمت اور بقا کے دائرے میں کھڑا معلوم ہوتا ہے۔ یہی چیز فلم کے پہلے تاثر کو زیادہ دلچسپ بناتی ہے۔
اس پراجیکٹ کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ یہ ٹیم ماضی میں بھی کامیاب فلموں کے ساتھ شائقین کی توجہ حاصل کر چکی ہے۔ فہد مصطفیٰ، مہوش حیات، نبیل قریشی اور فضا علی میرزا کا اشتراک پہلے بھی کمرشل سطح پر مضبوط سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم ‘زومبید’ میں فرق یہ ہے کہ اس بار توجہ ہنسی مذاق یا خاندانی تفریح پر نہیں بلکہ ہارر، تھرل اور ایک تباہ حال دنیا کے تصور پر ہے۔
فلم کے ٹیزر اور پوسٹر سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ سازندگان اسے پاکستانی سینما میں ایک نئے تجربے کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ زومبی ہارر بین الاقوامی سینما میں ایک مقبول صنف رہی ہے، مگر پاکستان میں مرکزی دھارے کی فلموں میں اس نوعیت کا کام بہت کم دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی وجہ سے ‘زومبید’ کو محض ایک نئی فلم نہیں بلکہ ایک ممکنہ رجحان ساز کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ابتدائی ردعمل سے لگتا ہے کہ فلم نے کم از کم دلچسپی پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ فلم اپنی سنسنی خیز تشہیر کو ایک مضبوط کہانی، معیاری اجرا اور مؤثر اداکاری میں بدل پائے گی یا نہیں۔ فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ‘زومبید’ نے اپنے پہلے پوسٹر ہی سے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ روایتی سانچے میں بننے والی فلم نہیں۔
