پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 میں سمیر کی کارکردگی نے انہیں ایک ابھرتے ہوئے کھلاڑی سے قومی ٹیم کے ایک سنجیدہ امیدوار میں بدل دیا ہے۔ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے ٹاپ تین بلے بازوں میں شامل ہونے کے بعد، اس مڈل آرڈر بیٹر نے سلیکٹرز کے لیے نظر انداز کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔
سمیر نے صرف رنز نہیں بنائے، بلکہ کھیل پر اپنی گرفت مضبوط رکھی۔ 12 اننگز میں 158.4 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ اسپن کے خلاف اسٹرائیک روٹیٹ کرنے اور تیز رفتار گیند بازوں کے خلاف باؤنڈریز لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کوالیفائر میں سلطانز کے خلاف ان کی 84 رنز کی اننگز ٹورنامنٹ کی بہترین کارکردگی رہی — یہ دباؤ میں اعصاب پر قابو پانے کا وہ مظاہرہ تھا جس کی قومی ٹیم کو حالیہ ٹی 20 مقابلوں میں شدت سے کمی محسوس ہوئی۔
فائنل کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سمیر نے کہا، "میں نے گزشتہ چھ ماہ خاص طور پر اپنے فنشنگ اسٹائل پر کام کیا ہے۔ میرا مقصد صرف پی ایس ایل کھیلنا نہیں تھا، بلکہ یہ ثابت کرنا تھا کہ جب مطلوبہ رن ریٹ بڑھ رہا ہو تو میں پاکستان کے لیے میچ ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔”
قومی سلیکٹرز طویل عرصے سے مڈل آرڈر کے خلا کو پر کرنے کے لیے کوشاں ہیں، جہاں کھلاڑیوں کو مسلسل مواقع نہیں مل رہے۔ سمیر کی مستقل مزاجی — پورے سیزن میں 42.5 کی اوسط — اس ٹیم کو وہ استحکام فراہم کر سکتی ہے جس کی اسے ضرورت ہے۔ ان کی اننگز کو سنبھالنے اور اسٹرائیک ریٹ برقرار رکھنے کی صلاحیت اس خلا کو پر کرتی ہے جس کی نشاندہی کوچنگ اسٹاف نے ٹی 20 ورلڈ کپ کے بعد کی تھی۔
کچھ ناقدین کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اسپن کے خلاف ان کا تجربہ کم ہے۔ تاہم، پی ایس ایل میں ٹاپ کلاس لیگ اسپنرز کے خلاف ان کے فٹ ورک نے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کی تکنیکی بنیاد اتنی مضبوط ہے کہ وہ اس منتقلی کو سنبھال سکیں۔
قومی سلیکشن کمیٹی کی جانب سے آئندہ ٹی 20 سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان اگلے ہفتے متوقع ہے۔ بورڈ کے حالیہ بیانات "جارحانہ اور ہائی انٹینٹ کرکٹ” کی جانب اشارہ کر رہے ہیں، جس میں سمیر کا انداز بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ سلیکٹرز ڈومیسٹک کارکردگی کو بین الاقوامی تجربے پر کتنی ترجیح دیتے ہیں۔ اگر پی ایس ایل کا حالیہ سیزن ایک انٹرویو تھا، تو سمیر نے اپنی اہلیت ثابت کر دی ہے۔ اب فیصلہ سلیکٹرز کی میز پر ہے۔
