سندھ ہائی کورٹ نے علی رضا عابدی کیس میں اپنے گزشتہ فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان کی رہائی کی راہ ہموار کر دی ہے۔ جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے آج حکم دیا کہ عابدی زرِ ضمانت جمع کروانے کے بعد رہا ہو سکتے ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے نے ان قانونی رکاوٹوں کو ختم کر دیا ہے جن کی وجہ سے وہ اب تک حراست میں تھے۔
عدالت کا یہ فیصلہ دفاعی وکلا کے ٹھوس دلائل کے بعد سامنے آیا۔ وکلا کا موقف تھا کہ ضمانت کے لیے عائد کی گئی ابتدائی شرائط ضرورت سے زیادہ سخت اور الزامات کی نوعیت سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ بینچ نے اس نکتے کو تسلیم کیا کہ جب ضمانت کے قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہوں، تو عدالتی عمل کو غیر معینہ مدت تک قید رکھنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
علی رضا عابدی کی قانونی ٹیم نے عدالتی حکم پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ وکلا کے مطابق زرِ ضمانت کے لیے ضروری دستاویزات کی تیاری کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ توقع ہے کہ اگر انتظامی امور میں غیر ضروری تاخیر نہ ہوئی تو رہائی کے پروانے آج سہ پہر تک جیل حکام کو موصول ہو جائیں گے۔
علی رضا عابدی کا کیس کافی عرصے سے خبروں کی زینت بنا ہوا ہے، جس کے بارے میں ان کے حامیوں اور وکلا کا دعویٰ ہے کہ یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا۔ استغاثہ نے ضمانت کی شرائط میں نرمی کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس سے جاری تفتیش متاثر ہو سکتی ہے، تاہم عدالت نے ان دلائل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے حراست کو مزید جاری رکھنے سے انکار کر دیا۔
آج کے فیصلے نے مقدمے کی کارروائی کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگرچہ کیس ابھی ختم نہیں ہوا اور قانونی جنگ جاری رہے گی، لیکن ضمانت کے حق کو ترجیح دینے کے عدالتی فیصلے سے کیس اب معمول کی ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ فی الحال تمام تر توجہ جیل کے گیٹ پر مرکوز ہے، جہاں عابدی کے اہل خانہ اور قانونی معاونین ان کی رہائی کے منتظر ہیں۔
