اسلام آباد: ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے کچھ ریلیف کی امید پیدا ہوئی ہے کیونکہ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ (CPPA-G) کی درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اپریل تا جون 2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ پر بجلی نرخوں میں کمی کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق یہ کمی تقریباً 1.75 سے 1.80 روپے فی یونٹ کے درمیان ہو سکتی ہے، جبکہ مجموعی صارف ریلیف کا حجم لگ بھگ 53.393 ارب روپے بتایا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ مالی سال 2024-25 کی چوتھی سہ ماہی یعنی Q4 سے متعلق ہے۔ اسی بنیاد پر ڈسکوز کی جانب سے نیپرا سے منفی Quarterly Tariff Adjustment (QTA) مانگی گئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس بار صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے ان کے بلوں میں کمی دی جا سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ ریلیف یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت کے-الیکٹرک صارفین تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
نیپرا میں سماعت کے دوران ریگولیٹر نے اشارہ دیا کہ بجلی نرخوں میں منفی ایڈجسٹمنٹ بنتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ تمام جمع کرائے گئے اعدادوشمار اور متعلقہ کمپنیوں کے دعووں کی جانچ پڑتال کے بعد جاری کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ فی یونٹ کمی کے بارے میں 1.75 روپے اور 1.80 روپے، دونوں اعداد سامنے آئے ہیں؛ یعنی ریلیف کی سمت واضح ہے، مگر آخری نوٹیفکیشن ہی حتمی رقم طے کرے گا۔
اس مجوزہ فیصلے کی اہمیت صرف اتنی نہیں کہ بل کچھ کم ہو جائیں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ مسلسل مہنگی بجلی، گنجائش ادائیگیوں، لائن لاسز اور وصولیوں کے مسائل کے بیچ صارفین کافی عرصے سے دباؤ میں ہیں۔ ایسے میں اگر یہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ منظور ہو جاتی ہے تو گھریلو اور کمرشل دونوں صارفین کو کم از کم چند ماہ کے لیے سانس لینے کا موقع مل سکتا ہے، خاص طور پر اُن مہینوں میں جب استعمال زیادہ ہوتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض شہ سرخیوں میں مجموعی منفی QTA کا حجم 63.94 ارب روپے بتایا گیا، لیکن زیادہ تر دستیاب رپورٹنگ میں 53.393 ارب روپے یا قریب ترین یہی عدد مسلسل سامنے آیا ہے۔ اسی لیے ذمہ دارانہ صحافتی انداز یہی ہوگا کہ خبر میں بڑے دعوے کے بجائے زیادہ متفقہ اور بار بار رپورٹ ہونے والے عدد کو بنیاد بنایا جائے، جب تک نیپرا یا متعلقہ سرکاری دستاویز اس بڑے فرق کی باضابطہ تصدیق نہ کر دیں۔
اب نظریں نیپرا کے تفصیلی فیصلے پر ہیں۔ اگر اتھارٹی درخواست کو بڑی حد تک منظور کر لیتی ہے تو اگلے بلوں میں صارفین کو واضح فرق محسوس ہو سکتا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسی سہ ماہی رعایتیں وقتی سکون تو دیتی ہیں، بجلی کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے والے مسائل کا مستقل حل نہیں بنتیں۔ پھر بھی، موجودہ حالات میں 1.75 روپے فی یونٹ کے آس پاس کمی خود ایک بڑی خبر ہے۔
